تحقیقِ عارفانہ — Page 7
L کے دوسرے علماء کے عقیدہ میں اگر اختلاف ہے تو صرف اتنا ہے کہ وہ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے اصالتا دوبارہ آنے کے قائل ہیں اور ہم اسکے مثیل کے آنے کے قائل ہیں پس ختم نبوت کے عقیدہ میں ہم میں اور ان میں اس بات میں اتفاق ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی جدید شریعت لانیوالا نہیں آسکتا اور مسیح موعود ایسانی صلى الله ہے جو تابع شریعت محمدیہ ہے گویا ایک نبی کے خاتم النبین ہے کے تابع آنے میں تو ہم سب کا اتفاق ہے البتہ اس کی شخصیت میں ہم میں اور ان میں یہ اختلاف ہے کہ یہ موعود خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں یا ان کا کوئی مثیل اور بروز ہے جو ایک پہلو سے امتی ہے اور ایک پہلو سے نبی۔مسلمان کے ایک گروہ کا احمدی عقیدہ سے اتفاق ایک گروہ مسلمانوں کا یہی عقیدہ رکھتا چلا آیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول سے مراد یہ ہے کہ امام مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بروز ہو گا۔نہ یہ کہ حضرت عیسے اعلیہ السلام اصالتاً دوبارہ نازل ہوں گے۔چنانچہ اقتباس الانوار صفحہ ۵۲ میں لکھا ہے :- بعضی بر آنند که روح عیسی در مهدی بروز کند و نزول مبارت از ہمیں 6613 بروز است مطابق ایس حدیث کہ لَا مَهدى إِلَّا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ - یعنی بعض کا یہ مذہب ہے کہ عیسی کی روح یعنی روحانیت مہدی میں بروز (ظہور ) کرے گی اور نزول عیسی سے مراد یہی بروز ہے ( یعنی بروزی ظہور ہے نہ کہ اصالتاً آنا ) مطابق اس حدیث کے جس میں لا مهدی الا عیسی ابن مریم کے الفاظ وارد ہیں کہ عیسی بن مریم کے سوالور کوئی مہدی نہیں۔اسی طرح امام سراج الدین ابن الوردی تحریر کرتے ہیں :- قَالَتْ فِرقَةً مِنْ تَزُولِ عِيسَى حُرُوجُ رَجُلٍ يَشبَهُ عِيسَى فِي الفَضْلِ وَ