تحقیقِ عارفانہ — Page 6
۶ حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام ہیں جنہیں زندہ ہی خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر اُٹھا لیا گیا تھا ہی آخری زمانہ میں آسمان سے اتریں گے اور قوموں کے درمیان حکم ہوں گے اور صلیبی مذہب (عیسائیت کا مقابلہ کریں گے۔پس ایک نبی کی ضرورت کی قریباً تمام امت قائل چلی آتی ہے۔جماعت احمدیہ از روئے قرآن مجید و احادیث نبویہ یہ یقین رکھتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام جو اسرائیلی نبی تھے تمام دوسرے انبیاء کی طرح وفات پاچکے ہیں۔اور جس موعود عیسی کے امتِ محمدیہ میں آنے کا احادیث نبویہ میں وعدہ دیا گیا ہے۔اسے عیسی یا امن مریم کا نام مجاز و استعارہ کے طور پر حضرت عیسی علیہ السلام کا میل یا بروز ہونے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔کیونکہ احادیث نبویہ میں اس موعود ابن مریم کو امامُكُمْ مِنْكُمْ ( صحیح بخاری) اور فأَمَّكُمُ مِنكُمُ ( صحیح مسلم) تم میں سے تمہارا امام قرار دیا گیا ہے۔ہاں بعض احادیث میں رسول کریم ﷺ نے اس موعود عیسی کو نبی اللہ بھی قرار دیا ہے۔ان سب احادیث کو تطبیق دینے سے یہ ظاہر ہے کہ مسیح موعود امتِ محمدیہ کا ہی ایک فرد ہے اور آنحضرت ﷺ کا خلیفہ ہے جو ایک پہلو سے نہی ہے اور ایک پہلو سے امتی بھی۔حضرت عیسی علیہ السلام چونکہ وفات پا چکے ہیں اور وفات یافتہ کا از روئے قرآن مجید اس دنیا میں واپس آنا محال ہے اسلئے یہی عقیدہ درست ماننا پڑتا ہے کہ امت محمدیہ کا مسیح موعود حضرت عیسی علیہ السلام نہیں ہیں بلکہ اُن کا مثیل اور بروز ہی ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا دعویٰ یہی ہے کہ آپکو ہی اپنے الہامات کے مطابق مسیح کے رنگ میں ہو کر آنے کی وجہ سے احادیث نبویہ میں لئن مریم کا نام بطور استعارہ دیا گیا تھا۔پس خاتم النبیین عملے کے بعد تقریبا ساری کی ساری امت ایسے نبی کی آمد کی قائل چلی آئی ہے جو شریعت محمدیہ کے مطابق حکم ہو ہم میں اور اس زمانہ