تحقیقِ عارفانہ — Page 167
172 احسان قرآن کا اُن پر ہے کہ اُن کو بھی نبیوں کے دفتر میں لکھ دیا اسی وجہ سے ہم ان پر ایمان لائے کہ وہ بچے نبی ہیں اور بر گزیدہ ہیں اور ان تہمتوں سے معصوم ہیں۔جو ان پر اور اُن کی ماں پر لگائی گئی ہیں۔“ یہی بات ضمیمہ انجام آتھم میں یوں لکھی ہے۔اعجاز احمدی صفحه ۱۳ طبع اول) بالآخر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی انہوں نے ناحق ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ ان کے یسوع کا کچھ تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔چنانچہ اسی پلید نالائق فتح مسیح نے اپنے خط میں جو میرے نام بھیجا ہے آنحضرت مﷺ کو زانی لکھا ہے اور اس کے علاوہ اور بہت گالیاں دی ہیں پس اسی طرح اس مُردار اور خبیث فرقہ نے جو مُردہ پرست ہے ہمیں اس بات کے لئے مجبور کر دیا ہے کہ ہم بھی ان کے یسوع کے کسی قدر حالات لکھیں۔اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا لور پادری اس بات کے قائل ہیں کہ یسوع وہ شخص تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ کا نام ڈاکو نور شمار رکھا اور آنے والے مقدس نبی کے وجود سے انکار کیا اور کہا میرے بعد سب ٹھوٹے نبی آئیں گے پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راستبازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔چہ جائیکہ کہ اس کو نبی قرار دیں۔نادان پادریوں کو چاہیے کہ وہ گالیوں کا طریق چھوڑ دیں۔ورنہ نہ معلوم خدا کی غیرت کیا کیا ان کو دکھلائے گی۔" پھر فرماتے ہیں :- (ضمیمه انجام آنتم حاشیه صفحه ۸، ۹ طبع اول) اور یاد رہے کہ یہ ہماری رائے اس یسوع کی نسبت ہے جس نے خدائی کا دعوی کیا اور پہلے نبیوں کو چور اور بٹمار کہا۔اور خاتم الانبیاء علیہ کی نسبت بجز اس کے