تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 166 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 166

۱۶۶ فرضی مسیح مراد لیا ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسی ابن مریم جو نبی تھا جس کا ذکر قرآن میں ہے وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہر گز مراد نہیں یہ طریق ہم نے بر ابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سن کر اختیار کیا ہے۔“ نور القرآن نمبر ۲ ستمبر ۱۸۹۵ء تا اپریل ۱۸۹۶ء بعنوان ناظرین کیلئے ضروری اطلاع ۲۰دسمبر ۱۸۹۵ء) -۲- پھر نور القرآن میں ”رسالہ فتح مسیح“ کے عنوان کے ذیل میں لکھتے ہیں۔چونکہ پادری فتح مسیح فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے ہماری طرف ایک خط صلى الله نهایت گندہ بھیجا۔اور اس میں ہمارے سید و مولی محمد مصطفی ﷺ پر زنا کی تہمت لگائی۔اور سوائے اس کے اور بہت سے الفاظ بطریق سب و شتم استعمال کئے اس لئے قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اس کے خط کا جواب شائع کر دیا جائے لہذا یہ رسالہ لکھا گیا۔امید که پادری صاحبان اس کو غور سے پڑھیں اور اس کے الفاظ سے رنجیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ یہ تمام پیرایہ میاں افتح مسیح کے سخت الفاظ اور نہایت ناپاک گالیوں کا نتیجہ ہے۔تا ہم ہمیں حضرت میں علیہ السلام کی شان مقدس کا بہر حال لحاظ ہے اور صرف فتح مسیح کے سخت الفاظ کے عوض ایک فرضی مسیح کا بالتقابل ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی سخت مجبوری سے۔کیونکہ اس نادان نے بہت ہی شدت سے گالیاں آنحضرت ﷺ کو نکالی ہیں اور ہمار اول دکھایا ہے۔“ (نور القرآن نمبر ۲ صفحه اطبع اول) - پھر آپ اعجاز احمدی صفحہ ۳ پر لکھتے ہیں۔” یہود تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں اور ان کی پیشگوئیوں کے بارے میں ایسے قومی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں بغیر اس کے کہ یہ کہہ دیں کہ ضرور عیسی نبی ہے کیونکہ قرآن نے ان کو نبی قرار دیا ہے اور کوئی دلیل ان کی نبوت پر قائم نہیں ہو سکتی۔بلکہ ابطال نبوت پر کئی دلائل قائم ہیں یہ -