تحقیقِ عارفانہ — Page 168
۱۶۸ کچھ نہیں کہا کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔“ (انجام آنقم صفحه ۱۳ طبع اول) تریاق القلوب کے حاشیہ صفحہ ۷ ۷ طبع اول پر تحریر فرماتے ہیں۔" حضرت مسیح کے حق میں کوئی بے ادبی کا کلمہ میرے منہ سے نہیں نکلا یہ سب مخالفوں کا افتراء ہے۔ہاں چونکہ در حقیقت کوئی ایسا یسوع مسیح نہیں گزرا جس نے خدائی کا دعوی کیا ہو اور آنے والے نبی خاتم الانبیاء کو جھوٹا قرار دیا ہو اور حضرت موسیٰ کو ڈاکو کہا ہو اس لئے میں نے فرض محال کے طور پر اس کی نسبت ضرور بیان کیا ہے کہ ایسا مسیح جس کے یہ کلمات ہوں۔راستباز نہیں ٹھہر سکتا۔لیکن ہمارا مسیح ابن مریم جو اپنے تئیں بندہ اور رسول کہلاتا ہے اور خاتم الانبیاء کا مصدق ہے۔اس پر ہم ایمان لاتے ہیں اور آیت حَادِلَهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کا یہ منشا نہیں ہے کہ ہم اس قدر نرمی کریں کہ مداہنہ کر کے خلاف واقعہ بات کی تصدیق کریں کیا ہم ایسے شخص کو جو خدائی کا دعویٰ کرے اور ہمارے رسول کو پیشگوئی کے طور پر کذاب قرار دے اور حضرت موسیٰ کا نام ڈاکو ر کھے راستباز کہہ سکتے ہیں۔کیا ایسا کرنا مجادلہ حسنہ ہے ؟ ہر گز نہیں بلکہ منافقانہ سیرت اور بے ایمانی کا ایک شعبہ ہے۔“ - ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے جو درشت الفاظ لکھے ہیں ان کا مرجع حضرت عیسی علیہ السلام نہیں بلکہ ان کا مرجع عیسائیوں کا ایک فرضی یسوع ہے۔اور آپ نے اس کے متعلق بھی بعض باتیں مجبورا الزامی رنگ میں فرض محال کے طور پر لکھی ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام پر آپ صدق دل سے ایمان رکھتے ہیں اور انہیں خدا کا بر گزیدہ اور راستباز نبی یقین کرتے ہیں اور مخالفین کو آپ پر حضرت عیسی علیہ السلام کی بے اولی کا الزام لگانے کو ان مخالفوں کا افتراء قرار دیتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں۔