تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 78
ساتواں انکشاف : ۱۱۴ هـ شا حضرت امام محمد باقر علی اسلام موتی لالہ نے عظیم الشان پیشگوئی فرمائی۔إِنَّ المُؤْمِنَ فِي زَمَانِ القَائِمِ وَهُوَ بِالْمَشْرِقِ يرى أَخَاهُ الَّذِي في المَغْرِبِ وَكَذَا الَّذِي فِي الْمَغْرِبِ يَرَى أَخَالُهُ فِي المَشْرِق له مہدی موعود کے زمانہ میں جو مومن مشرقی ممالک کے رہنے والے ہوں گے وہ بلاد غربیہ کے بھائیوں کو اور جو مغرب کے ہوں گے وہ مشرق میں بنے والے بھائیوں کو دیکھ سکیں گے۔اس سے ظاہر ہے کہ مہدی معہود کے ذریعہ مغرب اور مشرق کو ملا دیا جائے گا اور سب دنیا میں رفته رفته عقیدہ توحید الہی کے قبول کرنے میں وحدت ہو جائے گی۔آٹھواں انکشاف : اولیاء امت پر آٹھواں انکشاف یہ ہوا کہ مہدی موعود کا زمانہ ایک ہزار چالیس سال ہوگا اور اس کی (روحانی سلطنت کے بعد قیامت تک کسی اور کی حکومت نہ ہوگی چنانچہ لکھا ہے :- " " عمر شریفش ہزار و چپل سال ۳ لَيْسَ بَعْدَ دَولة القَاسِمِ احَدٍ دَولَةٌ پیشگوئی کا شاندار ظهور میرے بزرگو اور بھائیو ! ! بزرگان سلف کی باطنی اور روحانی بصیرت اور فیضانِ ختم نبوت کا یہ کتنا زبر دست معجزہ اور بھاری نشان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (اپنے ازلی نوشتوں اور پیشگوئیوں کے عین مطابق شام یعنی شتہ میں نازل ہونے والی آیت خاتم النبیین کے ٹھیک ۱۳۰۰ سال بعد یه شه بحار الانوار جلد ۱۳ ص ۲۰۰ النجم الثاقب ص ۳۴۷ (الحاج میرزا حسین طبرسی مطبوعه ۱۳۳ ) بحارالانوار جلد ۱۳ ص ۲۳۶