تفسیر خاتم النبیین اور بزرگان سلف — Page 77
،، ترجمہ : خدائے عزوجل کی کتاب اور سنت نبوئی کا علم مہدی موعود کے دل میں اُسی طرح پیدا ہو گا جس طرح بہترین نباتات پیدا ہوتی ہے۔یہیں تم میں سے جو زندہ رہے اور اس کی زیارت بھی اسے نصیب ہو جائے تو وہ اسے دیکھتے ہی یہ کے کہ اہل بیت رحمت و نبوت ، اسے علم کا سرچشمہ اور مقام رسالت تجھ پر سلام !! پین کے متاز مفسر وصوف حضرت محی الدین ابن عربی استونی شام آیت ذالك الكتاب لا ريب فيه (البقرہ :۲) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔" ذالك الكتاب الموعود۔۔إنّهُ يَكُونُ مَعَ المَهْدِى فِي آخِرِ d الزَّمَانِ لا يَقْرُوهُ كَما هُوَ بِالْحَقِيقَةِ إِلا هُو : حضرت محی الدین نے اس مقام پر تعظیم الشان نکتہ بیان فرمایا ہے کہ ذالک اسم اشارہ بعید کا ہے جو یہاں یہ واضح کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے کہ قرآن مجید اس اعتبار سے موجود کتاب ہے کہ جو آخری زمانہ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے پاس ہوگی اور اسے آپ کے سوا کوئی اور شخص حقیقی طور پر پڑھ نہیں سکے گا۔شیراز کے عارف ربانی اور مفتر حضرت الشیخ ابو نصر بن روزبهان (متوفی شتہ نے اپنی تغییر کے دیباچہ میں حضرت جعفر بن محمد کا حسب ذیل قول نقل فرمایا ہے جس سے حضرت ابن عربی کے مندرجہ بالا نکتہ کی بالواسطہ تائید ہوتی ہے ، لکھا ہے۔كتاب الله على اربعة اشياء- العِبَارَةُ وَالإشارة واللطائف والحقائق فالعبارة للعوام والاشارة للخواص واللطائف الاولياء والحقالق للانبياء " له ترجمه کتاب اللہ چار چیزوں پرشتمل ہے، عبارت ، انشارت التخالف اور حقائق۔عبارت عوام کے لیے ، اشارات خواص کے لیے ، لطائف اولیاء کے لیے اور حقائق نبیوں کے لیے ہیں۔تفسير ابن عربي ص ١٠ تفسير الرائس البيان من هم مطبع نو کشور لطیف با تیں۔ہ