تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 784 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 784

۲۷۔الشیخ محمد بن عبد اللہ خاتمة الحفاظ تھے۔(الرسائل النادرہ صفحہ ۳۰) ۲۸ - علامہ سعد الدین تفتازانی خاتمة المحققین تھے۔(شرح حدیث الاربعین صفحہ 1) ۲۹ - ابن حجر العسقلانی خاتمة الحفاظ ہیں۔(طبقات المدلسین سرورق ) ۳۰۔مولوی محمد قاسم صاحب کو خاتم المفسرین لکھا گیا ہے۔(اسرار قرآنی ٹائیٹل پیج ) ۳۱- امام سیوطی خاتمة المحدثین تھے۔( ہدیۃ الشیعہ صفحہ ۲۱۰) ۳۲- بادشاه خاتم الخکام ہوتا ہے۔(حجۃ الاسلام صفحہ ۳۵) -۳۳ آنحضرت صلعم خاتم الکاملین تھے۔( " ") ۳۴- انسانیت کا مرتبہ خاتم المراتب ہے اور آنحضر میبینم خاتم الکمالات ہیں۔علم الکتاب صفحہ ۱۴۰) ۳۵- حضرت میں خاتم الاصفیاء الآئمۃ ہیں۔(بقیہ المنتقد مین صفحہ ۱۸۴) -۳۶- حضرت على خاتم الاوصیاء تھے۔(منار الہدی صفحہ ۱۰۶) ۳۷۔رسول مقبول صلعم خاتم المعلّمین تھے۔(الصراط السوی مصنفہ علامہ محمد سبطین) الشیخ الصدوق کو خاتم المحدّثین لکھا ہے۔(کتاب من لا يحضره الفقيه) ۳۹۔عقل انسانی عطیات الہیہ وجود، زندگی اور قدرت کی خاتم الخلع ہے۔( تفسیر کبیر رازی جلد ۶ صفحه ۳۱) ۴۰ - ابوالفضل شہاب الالوی کو خاتمة الادباء لکھا ہے۔(سرورق روح المعانی) ۴۱ - صاحب روح المعانی نے الشیخ ابراہیم الکورانی کو خاتمة المتأخرین قرار دیا ہے۔( تفسیر روح المعانی جلد ۵ صفحه ۴۵۳) ۴۲ مولوی انورشاہ صاحب کا شمیری کو خاتم المحدّثین لکھا گیا ہے۔(کتاب رئیس الاحرار صفحہ ۹۹) ۴۳- مولانا قاری محمد طیب صاحب مہتمم مدرسہ دیو بند لکھتے ہیں :- " آپ ہی منتہائے علوم ہیں کہ آپ ہی پر علوم کا کارخانہ ختم ہو جاتا ہے۔اس لئے آپ کو خَاتَمِ الْاَنْبِيَاءَ بنایا گیا ہے۔“ ( شانِ رسالت صفحہ ۴۸) ۴۴- امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں :- وَالْخَاتَمُ يَجِبْ أَنْ يَكُونَ أَفْضَلَ أَلَّا تَرَى أَنَّ رَسُوْلَنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ كَانَ أَفْضَلُ الْاَ نْبِيَاءِ (784)