تفہیماتِ ربانیّہ — Page 785
عَلَيْهِمُ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ۔“ ( تفسیر کبیر رازی جلد ۶ صفحه ۳۴ مصری) کہ خاتم لا زمنا افضل ہوتا ہے جس طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خاتم النبین قراردیا گیا تو آپ سب نبیوں سے افضل ٹھہرے۔“ ۴۵ حضرت فرید الدین عطار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق کہتے ہیں ے ختم کردہ عدل و انصافش بحق تا فر است برده از مردم سبق (منطق الطیر صفحه ۲۹) ۴۶- جناب مولانا حالی حضرت شیخ سعدی کے متعلق لکھتے ہیں :- ” ہمارے نزدیک جس طرح طعن و ضرب اور جنگ و حرب کا بیان فردوسی پر ختم ہے اسی طرح اخلاق ، نصیحت و پند عشق و جوانی ، ظرافت و مزاح، زہدور یا وغیرہ کا بیان شیخ پر ختم ہے۔(رسالہ حیات سعدی صفحہ ۱۰۸) ۴۷۔حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی تحریر فرماتے ہیں :- سو جس میں اس صفت کا زیادہ ظہور ہو جو خاتم الصفات ہو یعنی اس سے اوپر اور صفت ممکن الظہور یعنی لائقِ انتقال وعطائے مخلوقات نہ ہو وہ شخص مخلوقات میں خاتم المراتب ہوگا اور وہی شخص سب کا سردار اور سب سے افضل ہوگا‘(رسالہ انتصار الاسلام صفحہ ۴۵) ۴۸- جناب مولوی محمد طیب صاحب دیوبندی لکھتے ہیں انبیاء و دجاجلہ میں بھی ایک ایک فرد خاتم ہے جو اپنے دائرہ میں مصدر فیض ہے۔انبیاء علیہم السلام میں وہ فرد کامل اور خاتم مطلق جو کمالات نبوت کا منبع فیض ہے اور جس کے ذریعہ سارے ہی طبقہ انبیاء کو علوم و کمالات تقسیم ہوئے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ تعلیمات اسلام مطبوعہ دلی پرنٹنگ پریس دہلی صفحه ۲۲۳ - ۲۲۴) ۴۹ - مولوی شبیر احمد صاحب عثمانی دیوبندی ( شیخ الاسلام پاکستان ) نے لکھا ہے کہ : جبکہ صفت علم تمام ان صفات کی خاتم ہے جو مربی عالم ہیں تو جس کا (785)