تفہیماتِ ربانیّہ — Page 736
عیلی کی زندگی کا معتقد نہ تھا۔اگر کوئی روایات نصاریٰ کے ماتحت ان کو پہلے زندہ سمجھتا بھی تھا تو حضرت ابوبکر کے خطبہ نے اس کی غلطی کا بھی ازالہ کر دیا اور سب صحابہ کا اس مسئلہ میں واحد وو مسلک ( وفات یح) ہو گیا۔(۲) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شہادت کے بعد حضرت امام حسین منبر پر چڑھے اور فرمایا :- أيُّهَا النَّاسُ قَدْ قُبِضَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ لَمْ يَسْبِقُهُ الْأَوَّلُونَ وَلَا يُدْرِكُهُ الْآخِرُونَ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُهُ الْمَبْعَثَ فَيَكْتَنِفُهُ جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ وَمِيْكَائِيلُ عَنْ شِمَالِهِ فَلَا يَنْثَنِي حَتَّى يَفْتَحَ اللهُ لَهُ وَمَا تَرَكَ إِلَّا سَبْعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِي بِهَا خَادِماً وَلَقَدْ قُبِضَ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي عُرِجَ فِيْهَا بِرُوْحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِيْنَ مِنْ رَمَضَانَ “ ( طبقات کبیر جلد ۳ صفحه ۲۶) کہ اے لوگو! آج رات وہ انسان فوت ہوا ہے کہ پہلے اور پچھلے اس کے مرتبہ کو نہیں پاسکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو جنگ کے لئے بھیجا کرتے تھے تو جبرائیل آپ کے دائیں اور میکائیل بائیں ہوتا تھا اور آپ فتح کئے بغیر واپس نہ لوٹتے تھے۔آپ کا ترکہ سات سو درہم ہے جن کے متعلق آپ کا ارادہ تھا کہ ایک غلام خریدیں۔آپ اُس رات میں فوت ہوئے جس میں حضرت عیسی بن مریم کی رُوح اُٹھائی گئی تھی یعنی ستائیس رمضان " اس بیان میں نہایت تصریح کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ آسمان پر جانے والی چیز صرف حضرت عیسی علیہ السلام کی روح تھی، اُن کا جسم آسمان پر نہ گیا تھا۔اور پھر یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ عیلی کی موت کی تاریخ ۲۷ / رمضان تھی۔بھائیو! عجیب حکمت الہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے رحلت فرمانے کے بعد اگر صحابہ کا کسی مسئلہ پر اجماع ہوتا ہے تو وہ وفات حیح ہے۔اور خلافت راشدہ کے بعد بھی پہلا اجماع اسی عقیدہ پر ہوتا ہے۔اور ہر دو وقتوں میں ہونے والا خلیفہ ہی (736)