تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 737 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 737

خطبہ پڑھتا ہے تا کہ کسی قسم کا شبہ نہ رہ سکے۔مگر افسوس ہے کہ پھر بھی بعض لوگ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَاَصْحَابی پر گامزن ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے حیات مسیح کے قائل ہیں۔يَا لَلْعَجب! عزیز و ا غور کرد که قرآنی نصوص، احادیثی بیانات ، اور اجماع کے خلاف عقیدہ رکھ کر آپ کیونکر ” اہل سنت والجماعت“ کہلا سکتے ہیں؟ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسی کو فوت شدہ انبیاء میں دیکھا ( بخاری باب الاسراء جلد ا صفحہ ۹۱ ) کیا یہ کافی شہادت نہ تھی؟ پھر آپ نے خود فوت ہو کر بتلا دیا کہ مجھ سے پہلے بھی کوئی رسول زندہ نہیں۔کیا اس سے آپ کی تسلی نہیں ہوسکتی؟ پھر کیا صحابہ کرام کے یہ دو تین اور اظہر من الشمس اجتماع آپ کو اطمینان نہیں دلا سکتے ؟ اگر نہیں تو کیا اس کے برخلاف ”حیات مسیح کے متعلق بھی آپ کے پاس کوئی ثبوت نص قرآنی یا اجماع صحابہ ہے؟ ہرگز نہیں۔اب آپ ہی خود فیصلہ فرما ئیں کہ کونسا فریق اَحَقُّ بِالآمن ہے؟ کیا ہی خوش قسمت وہ انسان ہے جس کے لئے یقین اور بصیرت کے دروازے کھولے گئے اور اس نے حق کو پالیا۔عقیدہ وفات مسیح سے متعلق حضرت مسیح موعود کی وصیت ! بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ جماعت احمد یہ یونہی بے ضرورت حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر زور دے رہی ہے مگر یہ خیال سراسر غلط ہے کیونکہ :- اوّل۔تو جب قرآن مجید نے اپنی صریح نصوص میں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا ذکر فرمایا ہے تو ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اس عقیدہ کو اختیار کرلے، اس کا اعلان کرے، اور اس کے دلائل سے لوگوں کو آگاہ کرے۔دوم - آج اس زمانہ میں اِس عقیدہ کی اسلام کی زندگی ، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برتری و افضلیت کے اعلان کے لئے اساسی ضرورت ہے۔عیسائی پادریوں نے جو صورتِ حال پیدا کر دی ہے اس کے ازالہ کے لئے عقیدہ (737)