تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 735 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 735

ہو چکے ہیں۔اگر ان کے نزدیک ایک بھی گزشتہ نبی زندہ ہوتا تو وہ فرط محبت کے باعث آپ کی موت کے قائل نہ ہوتے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا بھی ہے کہ پہلے حضرت عمر فرمارہے تھے کہ حضور زندہ ہیں، اِنَّمَا رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ كَمَا رُفِعَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ (حج الكرام صفحہ ۱۰۱) جیسے حضرت عیسی کا رفع ہوا ہے ویسے ہی آپ کا بھی رفع ہوا ہے، اور آپ بھی دوبارہ تشریف لائیں گے۔مگر حضرت ابوبکر کے زبر دست استدلال اور آیت قرآنی کی نص نے انہیں یقین دلایا کہ نہ صرف آپ ہی فوت ہوئے ہیں بلکہ جمیع انبیاء کرام بھی وفات پاگئے ہیں۔چنانچہ حضرت عمر خاموش ہو گئے اور باقی صحابہ نے بھی سکوت اختیار کر کے حضرت عیسی کی موت پر مہر یقین ثبت کر دی۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں :- وَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ تَلَاهَا فَعَقِرْتُ حَتَّى مَا تُقِلُّنِى رِجْلَايَ وَحَتَّى أَهْوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ حِيْنَ سَمِعْتُهُ تَلَاهَا انَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدُ مَاتَ۔“ (بخاری جلد ۳ صفحه ۶۵) که بخدا جب میں نے حضرت ابوبکر کو آیت وَمَا مُحَمَّدُ پڑھتے سنا تو میں سمجھا کہ یہ آیت تو مجھے ابھی معلوم ہوئی ہے، پھر تو میرے پاؤں میں طاقت نہ رہی اور میں زمین پر گر پڑا۔کیونکہ ابوبکر نے بیان فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں۔“ دیگر صحابہ کا بھی یہی حال تھا۔چنانچہ حضرت حسان فرماتے ہیں ے كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِي فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أَحَاذِرُ اے نبی ! تو میری آنکھ کی پتلی تھا تیرے مرنے سے میری آنکھ اندھی ہوگئی۔تیرے بعد جو چاہے مرے مجھے تو تیرا ہی ڈر تھا کہ تو فوت نہ ہو جائے۔“ آہ! کہاں یہ وارفتگی اور کہاں موجودہ مسلمانوں کے خیالات و ہیں تفاوت ره از کجاست تا یکجا صحابہ کرام کا یہ زبردست اجماع روز روشن کی طرح بتا رہا ہے کہ کوئی صحابی بھی حضرت (735)