تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 709 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 709

گر حضرت عیسی کے ساتھ تمام انبیاء سے نرالا اور خلاف سنت معاملہ اور سلوک کیا اور دشمنوں کی اُن تک رسائی نہ ہونے دی ؟ کیا اس کے یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو حضرت عیسی سے زیادہ پیار ہے اور باقی انبیاء اور خصوصاً سرور کائنات سے کم ؟ نعوذ باللہ سے آج حیات مسیح کا عقیدہ اسلام کے لئے ایک تباہ کن عقیدہ ہے جس کی مدد سے نصاری آج تک لکھوکھا مسلمانوں کو اسلام سے بیزار، اور عیسائیت کا حلقہ بگوش کر چکے ہیں۔اے کاش ! آپ غور کریں اور اس کھلی صداقت کو مان لیں کہ حضرت عیسی دیگر انبیاء کی طرح اسی خاکی زمین میں مدفون ہیں تاکہ عیسائیت مغلوب اور اسلام غالب ہو۔اور آپ مُردہ پرستوں کے مؤید نہ بنیں کیونکہ مسیح کی جسمانی زندگی کا اعتقاد عیسائیت کے لئے گونہ سہارا ہے سے ہمہ عیسائیاں را از مقال خود مد د دادند۔دلیری با پدید آمد پرستاران میت را قرآن مجید اور آنحضرت کی احادیث صحیحہ میں کسی جگہ بھی اس عقیدہ کا نشان نہیں پایا جاتا کہ حضرت مسیح زندہ اسی جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چلے گئے۔ہم چیلنج دیتے ہیں کہ اگر کہیں ایسا ثبوت ہے تو دکھلایا جائے۔لیکن خدا کے فضل سے مشرق و مغرب کے علماء بھی اس مدعا میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔قرآن مجید نے متعدد مقامات پر نہایت صراحت کے ساتھ وفاتِ عیسی کو بیان فرما دیا ہے جن میں سے ایک واضح اور صریح بیان سورۃ المائدہ کے آخری رکوع میں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذْ قَالَ اللهُ يُعِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأَقِيَ الهَيْنِ مِنْ دُونِ اللهِ ، قَالَ سُبْحَنَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لي بِحَقِّ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ - تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ، إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِهِ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّي وَرَبِّكُمْ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أنتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيده (مائده رکوع ۱۶) فرمایا کہ حضرت عیسی سے سوال ہوگا کہ کیا عقیدہ تثلیث کی ان لوگوں کو تم نے تعلیم دی تھی؟ حضرت عیسی اس کا جواب نفی میں دیتے ہوئے اپنی بریت میں آخر یہ فرمائیں گے وَكُنْتُ عَلَيْهِمُ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ کہ میرا یہ تعلیم دینا تو درکنار، میری زندگی اور موجودگی میں بھی ان میں یہ عقیدہ نہیں پھیلا کیونکہ اپنی حیات تک میں ان کا نگران تھا، ہاں (709)