تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 710 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 710

- جب تو نے میری توفی ( رُوح قبض کرلی تو تو ہی نگران تھا۔حضرت عیسی اپنے اس جواب میں جہاں عقیدہ تثلیث کے نصاریٰ میں پھیلنے سے لاعلمی کا اقرار کرتے ہیں۔وہاں پر وہ اس امر کی بھی پرزور شہادت دیتے ہیں کہ میری زندگی میں یہ گمراہ کن عقیدہ پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ میری توفی کے بعد یہ سب کچھ ہوا ہے۔اب اگر حضرت عیسی زندہ ہیں اور وہ آکر لوگوں کو جبراً مسلمان بنا ئیں گے، اور صلیبیوں کو شکستہ اور نصاری کو تہ تیغ کریں گے تو کیا وہ قیامت کو محض انکار میں جواب دیگر ( نعوذ باللہ ) جھوٹ بولیں گے؟ ہرگز نہیں۔کیونکہ جھوٹ اور خلاف واقعہ بیان ایک نبی تو کیا ایک مومن کی شان سے بھی بعید ہے۔پس ماننا پڑے گا کہ حضرت عیسی اس وقت زندہ نہیں۔یا بالفرض اگر زندہ ہیں تو وہ دوبارہ ہرگز نہیں آئیں گے۔کیونکہ دوبارہ آنے پر جب وہ عیسائیوں کو بگڑا ہوا، توحید سے منحرف ، تثلیث پر قائم دیکھ لیں گے تو پھر کیونکر رب السموات کے حضور کہ سکیں گے کہ مجھے علم نہیں؟ پھر حضرت عیسی نے عقیدہ تثلیث کی ایجاد اپنی توفی کے بعد بتائی ہے اور اس وقت بلکہ حضرت عیسی کی وفات کے جلد بعد ہی نصاری نے یہ عقیدہ گھڑ لیا۔اسی لئے قرآن پاک نے فرمایا لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللهَ ثَالِثُ ثَلَقَةٍ (مائدہ رکوع ۱۰) کہ نصاری جو تثلیث کے قائل ہیں وہ خدا کے نافرمان ہیں۔لہذا ثابت ہوا کہ نزول قرآن کے وقت بہر حال حضرت عیسی کی تو فی ہو چکی۔اگر یہ سوال ہو کہ توفی کے کیا معنی ہیں؟ تو یادر ہے کہ قرآن کریم اور اور ناقض روح کے معنی ہیں نہ قبض جسم کے۔چنانچہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مُتَوَفِّيكَ مُمِیتگ (بخاری کتاب التفسير باب ما جعل الله من بحيرة ) کہ توفی کے معنی موت ہیں۔پھر لغت کی کتاب میں لکھا ہے التوفى : الْفِعْلُ مِنَ الْوَفَاةِ تُوَفِّيَ عَلَى مَالَمُ يُسَمَّ فَاعِلُهُ لِاَنَّ الْإِنْسَانَ لَا يَتَوَفَّى نَفْسَهُ فَالْمُتَوَفِّى هُوَ اللهُ تَعَالَى أَوْ أَحَدٌ مِنَ الْمَلَئِكَةِ وَزَيْدُ هُوَ الْمُتَوَفَّى كليات الى البقاء صفحہ ۱۲۹) کہ توفی کا مادہ وفات ہے، تُوئی فعل مجہول استعمال ہوتا ہے اور انسانوں کی توفی کا فاعل اللہ یا کوئی فرشتہ ہوتا ہے کیونکہ کوئی انسان اپنی تو قی نہیں کیا کرتا۔پس اللہ تعالیٰ توفی کرنے والا ہے اور انسان متوفی ہوتا ہے۔خاص مذکورہ (710)