تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 708 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 708

66 کہ ان کا مقر اور ٹھکانا، زندگی اور موت بہر صورت گر کا ارض ہی میں ہے۔پس اے بھائیو! کیونکر ممکن ہے کہ وہ مسیح جو ایلیاہ کی دوبارہ آمد کو محال بتا کر یہود کو ملزم قرار دے گیا اب خود ہی دوبارہ خا کی جسم کے ساتھ آسمان سے اتر آوے۔کیا یہود آپ کے پہلے فیصلہ کے برخلاف آپ کا اپنا عمل (دوبارہ آمد ) پیش نہ کر دیں گے؟ ہمارے نزدیک اگر کوئی نبی یا رسول زندہ رکھا جاتا تو وہ کیا باعتبار اپنے ذاتی صفات کے، اور کیا بلحاظ اپنے کار ہائے نمایاں کے ، صرف اور صرف ہمارے سید و آقا حضرت محمد عربی تھے۔صلی اللہ علیہ وسلم بدنیا گر کسے پائندہ بودے ابوالقاسم محمد زندہ بودے چنانچہ خدائے پاک نے بھی فرمایا وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ، أَفَأَبِن متَ فَهُمُ الْخَلِدُونَ (انبیاء رکوع ۳) اے رسول! تجھ سے پہلے کوئی اب تک زندہ، ایک حالت پر قائم رہنے والا نہیں رہا۔کیا یہ ممکن ہے کہ وہ زندہ رہنے والے ہوں اور تو فوت ہو جائے؟ لیکن افسوس کہ مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تو مدینہ منورہ میں زمین کے نیچے مدفون ہیں مگر مسیح ناصری چوتھے آسمان پر زندہ ہیں۔یا للعجب۔܀ غیرت کی جائے عیسی زندہ ہو آسماں پر مدفون ہوز میں میں شاہ جہاں ہمارا دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس پر مصائب اور مشکلات نہ آئے ہوں۔حضرت ابراہیم کو دشمنوں نے آگ میں ڈالا اور حضرت یوسف کو کئی برس تک قید خانہ کی تاریک کوٹھڑی میں رہنا پڑا۔حضرت موسی کو ملک بدر ہونا پڑا۔پھر حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو مخالفوں کے منصوبوں سے تنگ آ کر وطن مالوف چھوڑنا پڑا اور آپ غاروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔آپ کبھی ٹخنوں تک لہو لہان ہوئے اور کبھی اُحد کے مقام پر بے ہوش گرے۔اور آپ کا سر مبارک خون آلودہ اور دانت شہید ہو گئے۔غرض کوئی نبی بھی اس سعادت سے محروم نہ رہا کہ اپنے محبوب کے نام پر ستا یا جاوے لیکن اللہ تعالیٰ کسی کو آسمان پر نہ لے گیا بلکہ زمین پر ہی رکھ کر ان کو تکالیف کا نشانہ بننے دیا۔اب ہم کیونکر ما نہیں کہ اللہ جل شانہ نے (708)