تفہیماتِ ربانیّہ — Page 707
ہوں گے۔ہمارا یقین ہے کہ آنے والا موعود آپکا اور وہ سید نا حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے وجو د باجود میں ظاہر ہو گیا۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو آپ کو قبول کریں۔ان ہر سہ مسائل پر اختصار سے اصولی دلائل درج ذیل ہیں نیز مخالفین کے اعتراضات کے جوابات بھی شامل ہیں۔مبحث اول- وفات مسیح اسلام کی زندگی مسیح ناصرٹی کی موت میں ہے موجودہ مسلمانوں کا خیال ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر زندہ موجود ہیں اور کسی نا معلوم زمانہ میں آپ ہی دوبارہ تشریف لا کر تمام دنیا کی طرف مبعوث ہوں گے۔اور اسی خیال کی وجہ سے یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے برگشتہ ہیں۔آج سے قریباً دو ہزار برس پیشتر حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد پر یہود نے یہی عذر کیا اور کہا کہ پہلے ایلیاہ کا آسمان سے اتر نا ضروری ہے۔گو یہ سچ ہے کہ یہود کی الہامی کتاب ۲ سلاطین ۲/۱۱ میں صاف لکھا ہے :- اور ایلیاہ بگولے میں ہو کے آسمان پر جاتا رہا۔“ اور پھر ملا کی ۴٫۵ میں ان کی دوبارہ آمد کو یوں ذکر فرمایا ہے :- ”دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر میں ایلیاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔“ مگر حضرت مسیح علیہ السلام نے حضرت یحیی کے متعلق فرما دیا کہ :- ایلیاہ جو آنے والا تھا یہی ہے۔جس کے سننے کے کان ہوں وہ ٹن لے۔“ (متی ۱۱/۱۴) گویا حضرت مسیح کے نزدیک کسی نبی کا بجسده العنصر می آسمان پر جانا اور پھر انتر نا ایک فضول اور خلاف سنت اللہ کام ہے کیونکہ رب السموات والارض نے آدم اور اس کی ذریت کے لئے ازل سے فرما دیا ہے فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ (اعراف رکوع ۲) (707)