تفہیماتِ ربانیّہ — Page 706
متعلق غلو سے کام لیا اور اس کو جو رَسُولاً إلى بنی اسرائیل تھا اُمت محمدیہ کا نجات دہندہ یقین کر رکھا تھا ان کے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام میں سے کوئی اس قابل نہ ہوسکتا تھا جو اس قوم کی بگڑی بنادے۔لوگ انہی خیالات میں غرق تھے کہ نا گہاں صدی کے سر پر مجد وصدی چہار دہم نبی اللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تجدید دین کے لئے مبعوث ہوئے اور آپ نے صحیح طور پر اسلامی عظمت کو قائم کیا۔اگر چہ دوسرے فرقوں سے ہمارا عملاً نماز، روزہ، حج ، زکوۃ وغیرہ کی ادائیگی میں کوئی اختلاف نہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ان اعمال کا سر چشمہ جو بصیرت ہونی چاہئے وہ ان میں نہیں ہے اور خدا کے زندہ معجزات نے ہم میں پیدا کر دی ہے۔ایسا ہی ان اعمال کے نتیجہ میں جو روحانیت ، خلوص، اور اللہ تعالیٰ سے شرف مکالمہ و مخاطبہ حاصل ہونا چاہیئے وہ بھی آج احمدیت کا ہی طغرائے امتیاز ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر چہ ہم ان مسلمانوں کے مقابلہ میں ابھی تک بہت ہی قلیل التعداد ہیں مگر ہم دنیا میں جس سرفروشی سے اسلامی فتوحات کے لئے کوشاں ہیں اور مال، عزت ، وطن اور جان کی قربانی سے اس کا ثبوت دے رہے ہیں وہ ایک امتیازی شان ہے جس کا اپنے و بیگانے سب اعتراف کرتے ہیں۔اس رُوح کے علاوہ بلحاظ عقیدہ ہمارا تین عقائد میں ان سے اختلاف ہے۔(۱) وہ حضرت مسیح کو بجسده العصری آسمان پر زندہ مانتے ہیں۔ہم آیات قرآنیہ واحادیث صحیحہ کی روشنی میں ان کو جملہ انبیاء کی طرح فوت شدہ یقین کرتے ہیں۔(۲) وہ خیال کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریعی وغیر تشریعی نبوت بند ہے اور امت کے لوگ اس نعمت سے کچھ بھی حصہ نہیں پاسکتے۔ہمارا عقیدہ ہے کہ بلا شبہ تشریعی نبوت بند ہے۔ایسا نبی کوئی نہیں آسکتا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان سے بہرہ ور نہ ہو ، ہاں ایسے نبی آسکتے ہیں جو شریعتِ اسلامیہ کے ماتحت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے یہ انعام پانے والے ہوں کیونکہ ایسے انبیاء کا آنا اسلام کی شان کو بلند کرنے کا موجب ہے اور اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند مرتبہ کا اظہار ہوتا ہے۔گویا ہمارے نزدیک صرف امتی نبی آسکتا ہے۔(۳) وہ کہتے ہیں کہ آنے والا موعود اُمتِ محمدیہ کا مصلح جسم سمیت آسمان سے اترے گا اور وہ خود حضرت مسیح (706)