تفہیماتِ ربانیّہ — Page 688
کی مانند ہو جو او پر سے خوبصورت دکھائی دیتی ہی مگر اندر مردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہوئی ہیں۔(متی ۲۳/۲۷) اور جب حضرت مسیح محمد می کے وقت کے علماء سوء بھی حدیث نبوی عُلَمَاءُ هُمْ شَر مَنْ تخت أَدِيمِ السَّمَاءِ کے مصداق بن چکے تو آپ نے حضرت مسیح ناصرٹی کے طریق پر ان علماء شوء سے کہا کہ : ”اے بدذات فرقہ مولویاں تم کب تک حق کو چھپاؤ گے ؟ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہود یا نہ خصلت کو چھوڑو گے۔اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیاو ہی عوام کا لانعام کو بھی پلایا۔( انجام آتھم صفحہ ۲۱) پس علماء سُوء سے آپ کا یہ خطاب تو مسیح ناصری سے مماثلت کی وجہ سے دلیل صداقت ہے۔الجواب الثانی۔مولوی ثناء اللہ صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ :- یہ سچ ہے کہ مرزا کے مخالفوں نے بھی مرزا صاحب کے حق میں سخت وسست الفاظ لکھے مگر ان کا ایسا لکھنا مرزا صاحب کے لکھنے کو جائز نہیں کر سکتا۔اس لئے کہ مرزا صاحب منجانب اللہ مصلح بن کر آئے تھے اور لوگوں کی یہ حیثیت نہیں۔بیمار کی ریس طبیب کرے تو طبیب نہیں۔( تعلیمات صفحہ ۳۱) " 66 میں سمجھتا ہوں مشہور ضرب المثل ” الكَذُوبُ قَدْ يَصدفی کی تصدیق کے لئے مولوی صاحب نے ان الفاظ میں واقعات کے لحاظ سے سچی شہادت ادا کی ہے۔یعنی اعتراف کر لیا ہے که سخت وست الفاظ کہنے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالفوں نے ابتداء کی اور حضرت نے بعد میں بعض سخت الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ہاں مولوی صاحب کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کا ایسا کرنا بھی جائز نہ تھا کیونکہ وہ طبیب تھے اور لوگ بیمار۔حالانکہ یہی مثال ہماری تائید کرتی ہے کیونکہ طبیب کا جس طرح سے یہ فرض ہے کہ مناسب دواؤں سے علاج کرے ویسے ہی اس کا یہ بھی فرض ہے کہ مناسب موقعہ اپریشن (688)