تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 689 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 689

بھی کرے۔اگر کوئی مریض خطر ناک مرض میں مبتلا ہو اور پھر ناصح طبیب کی بات پر کان دھرنے کی بجائے اسے گالیاں دے اور بد پرہیزی میں بڑھتا جائے تو طبیب کا فرض ہے کہ اس کو بد پرہیزی کے آنے والے خطرات سے کھلے الفاظ میں آگاہ کر دے۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسا کیا تو اس میں قابل اعتراض کون سی بات ہے؟ الجواب الخال۔یہ بھی محض غلط ہے کہ مندرجہ بالا الفاظ سب علماء کے لئے ہیں، کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود تحریر فرمایا ہے :۔(الف) ایسے لوگ جو مولوی کہلاتے ہیں انصار دین کے دشمن اور یہودیوں کے قدموں پر چل رہے ہیں۔مگر ہمارا یہ قول کی نہیں ہے۔راستباز علماء اس سے باہر ہیں۔صرف خائن مولویوں کی نسبت یہ لکھا گیا ہے۔“ (اشتہار ۱۲ دسمبر ۱۸۹۲ء) (ب) لَيْسَ كَلَامُنَا هَذَا فِي اخْيَارِهِمْ بَلْ فِي أَشْرَارِهِمْ “ یعنی ہمارا یہ کلام شریر علماء کے متعلق ہے، نیک علماء مستی ہیں۔“ (الہدی صفحہ ۶۸) اصل بات یہ ہے کہ یہ الفاظ اُس گروہ کے حق میں ہیں جن کے متعلق حضرت مجدد سرہندی تحریر فرماتے ہیں کہ : علمائے کہ بایں مبتلا اندو به محبت ایں دنیا گرفتار از علماء دنیا اند۔ایشانند علماء سوء و شرار مردم ولصوص دین و حالانکه از ایشان خود را مقتدائے دین میدانند و بهترین خلائق سے انگارند وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَذِبُونَ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَنُ الآية - عزیزے شیطان لعین را دید که فارغ نشسته است و از تضلیل و اغواء خاطر جمع ساخته - آنعزیز آنرا پرسید لعین گفت که علماء سوء اس وقت درین کار با من مدد عظیم کردند و مرا از یں ہم فارغ ساختند - والحق دریں زمان ہرشستی وخلاف ہدایتے که در امور شرعیه واقع شده است و ہر فتورے کہ در ترویج ملت و دین ظاهر گشته است بهمه از شومی علماء سوء ط (689)