تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 687 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 687

- قرآن مجید میں مکذبین، منافقین اور یہود وغیرہ کے لئے حسب ذیل الفاظ بھی مذکور ہیں :- (۱) القردة - بندر (مائده رکوع (۹) + (۲) الخنازير - سؤر (مائده رکوع ۹) : (۳) محمد گدھے (المدثر رکوع ۲ ) : (۴) شر الدواب - حیوانات سے بدتر (انفال رکوع ۷ ) : (۵) خم - بُکھر - غمی۔بہرے گونگے اور اندھے(بقرہ رکوع ۲) * (۶) مهین ذلیل ( القلم رکوع ۱) () (۷) هماز - نکته چین ( القلم رکوع ۱) (۸) مشاء بنمیم - چغلخور (القلم رکوع ۱ ) : (۹) مناع للخير - بھلائی سے روکنے والے (القلم رکوع ۱) (۱۰) معتد - حد سے بڑھنے والا ( القلم رکوع ۱) : (۱۱) اثیم - فاسق و فاجر (القلم رکوع ۱ ) * (۱۲) عتل- سرکش ( القلم رکوع ۱ ) : (۱۳) زنیم - ولد الزنا ( القلم رکوع ۱ ) : (۱۴) نج۔ناپاک ( تو به رکوع ۴) (۱۵) رجش گند مجسم ( تو به رکوع ۱۶) (۱۲) شتر البرية - سب مخلوق سے بدتر (البینہ ) ہمارے مخالفین کا فرض ہے کہ ان برمحل نازل شدہ الفاظ کو پڑھ کر قرآن مجید کا صحیح اخلاقی معیار سمجھ لیں۔اور سوچیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بعض برمحمل الفاظ استعمال کرنا کیونکر قابل اعتراض ہو سکتا ہے؟ (۱۲) بدذات فرقہ مولویاں“ کا جواب اعتراض مولوی ثناء اللہ صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب :- اپنے منکرین علماء اسلام چھوٹے اور بڑے سب کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔اے بدذات فرقہ مولویاں ، اے یہودی خصلت مولویو! ( تعلیمات مرزا صفحه ۲۹) اس اعتراض کا اصولی جواب او پر گزر چکا ہے۔نیز معترض پٹیالوی کے جواب میں بھی ہم اس کا جواب لکھ چکے ہیں۔اب کچھ مزید عرض ہے۔الجواب الاول - مسیح ناصری اور سی محمد کی میں عجیب مماثلت معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ناصری کے وقت کے یہودی علماء بھی انتہائی فتنہ پرداز تھے۔اس لئے حضرت مسیح کو ان کے حق میں کہنا پڑا :- ”اے ریا کار فقیہو اور فریسیو! تم پر افسوس ہے کہ تم سفیدی پھری ہوئی قبروں (687)