تفہیماتِ ربانیّہ — Page 686
اور یہ اسی قسم کی پیشگوئی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے بعد آنے والے وقت کا نقشہ ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے :- بَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا فَقَبَضَتُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَيَبْقَى سَائِرُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ كَمَا يَتَهَارَجُ الْحُمْرُ فَعَلَيْهِمْ تَقُوْمُ السَّاعَةُ۔“ (ترمذی ابواب الفتن جلد ۲ صفحہ ۴۷) لوگ اسی حالت میں ہوں گے کہ خدا تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جو تمام مومنوں کی روحیں قبض کرلے گی اور باقی لوگ شہوات میں مبتلا ہو جائیں گے جیسے کہ گدھے ہوتے ہیں ان پر قیامت آئے گی۔“ الغرض ان چار جوابات کے ماتحت مولوی صاحب کا مفہوم غلط اور اعتراض باطل ہے۔قرآن مجید اور اناجیل کے بظاہر سخت الفاظ ہم انجیل اور قرآن مجید کے بعض بظاہر سخت الفاظ نقل کرتے ہیں تا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کرنے والے پہلے ان انبیاء کرام پر بھی فتویٰ صادر کریں۔انا جیل میں حضرت مسیح نے اپنے مخاطبین کو جن ناموں سے یاد فرمایا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں :- (1) تم بڑے گمراہ ہو۔مرقس ۲۷ / ۱۲ (۲) اے بد کارو!۔لوقا ۱۳/۲۷ (۳) اے نادانو الوقا۲۵/ ۰۲۴ (۴) اے ریا کار فقیہو ! اور فریسیو! متی ۱۳ / ۲۳ (۵) اے اندھے راہ بتانے والو!۔متی ۱۶/۲۳ (۶) اے احمقو! اور اندھو!۔متی ۲۳/۱۷ (۷) اے ملعونو ! متنی ۲۵۴۱ (۸) اے شیطان - متی ۱۶/۲۳ (۹) اے سانپ کے بچو۔متی ۳۴/ ۱۲ (۱۰) بُرے اور زنا کارلوگ متی ۳۹/ ۱۲ : (۱۱) اے سانپو! اے افعی کے بچو ! متی ۲۳/۳۲ (۱۲) تم اپنے باپ ابلیس سے ہو۔یوحنا ۸٫۴۴ (۱۳) جاکر اس لومڑی ( ہیرودیس) سے کہہ دو۔لوقا ۳۲/ ۱۳ (۱۴) کتے اور سُور متی ۱۵/۱۶ و ۷/۶) لے عیسائیوں کو یہ نام خصوصیت سے مد نظر رکھ کر تہذیب کا معیار قائم کر کے اعتراض کرنا چاہئے۔(مؤلف) (686)