تفہیماتِ ربانیّہ — Page 685
الجواب ۲ - عربی محاورہ کے رُو سے ” ذریۃ البغایا“ کے ایک معنے حیوانات لاتعقل بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ شاعر کہتا ہے ج انا سُهَيْل طَلَعْتُ بِمَوْتِ أَوْلَادِ الزِّنَاء - شارحین نے اولا والزنا کے معنے حیوانات ہی کئے ہیں۔(حماسہ مجتبائی) حضرت اقدس نے ذریة البغایا کے بعد الّذِيْنَ خَتَمَ اللهُ عَلى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لا يَقْبَلُونَ “ کے الفاظ میں ان معنوں کی تشریح بھی فرما دی ہے۔الجواب ۳۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس کلام کے مخاطب خاص مکذبین معاندین ہیں جو اپنی شرارت اور خباثت میں حد سے بڑھ گئے تھے۔اور اس عبارت میں استثناء منقطع ہے۔یعنی ذریۃ البغایا لفظ مسلم کے ماتحت افراد نہیں بلکہ مطلب عبارت یوں ہے کہ خدا کے فرمانبردار بندے تو مجھے مانتے ہیں ، ہاں جو لوگ سرکش ہیں وہ مخالف ہیں۔خواہ وہ عیسائی ہوں یا آریہ ہوں یا برائے نام مسلمان استثناء منقطع کی مثال عام کتب میں جَاءَ الْقَوْمُ إِلَّا حِمَارِ بیان کی جاتی ہے۔الجواب : نقره" كُلُّ مُسْلِمٍ يَقْبَلُنِي وَيُصَدِّقُ دَعْوَتِي إِلَّا ذُرِّيَّةً الْبَغَايَا مستقبل بعید کے متعلق ایک پیشگوئی ہے۔یعنی قرونِ ثلاثہ ( تذکرۃ الشہادتین کی پیشگوئی) کے اندر اندر سب لوگ داخلِ اسلام ہو جا ئیں گے بجز بعض گندہ طبع لوگوں کے۔کتاب چشمہ معرفت میں حضرت نے اس مفہوم کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ سب قومیں ایک ہی مذہب (اسلام) پر ہو جائیں گی سوائے ان گندے لوگوں کے جو چوہڑے اور چماروں کی طرح رہ جائیں گے۔گویا اس عبارت میں آئندہ زمانہ ترقیات کا ذکر کیا گیا ہے نہ یہ کہ موجودہ نہ ماننے والوں کو ولد الزنا قرار دیا ہے۔ہمارے اس بیان کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ ذیل دو فقروں سے بھی ہو جاتی ہے۔فرمایا :۔(الف) ” اس مختصر فقرہ ( یا اُدھ) میں یہ پیش گوئی پوشیدہ ہے کہ جیسا کہ آدم کی نسل تمام دنیا میں پھیل گئی ایسا ہی میری یہ روحانی نسل اور نیز ظاہری نسل بھی تمام دنیا میں پھیلے گی۔“ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۹۶) و, ہر ایک جو سعید ہوگا وہ تجھ سے محبت کرے گا اور تیری طرف کھینچا جائے گا۔“ ( براہین احمدیہ پنجم صفحه ۷۴) (685)