تفہیماتِ ربانیّہ — Page 684
ب نے بھی اس پر خاص زور دیا ہے کہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ان کتابوں کے ضمن میں جو حضور نے اسلام کے دفاع میں تحریر فرمائی ہیں اور جن میں عیسائیوں کو جوابات دیئے ہیں لکھا ہے۔کُلُّ مُسْلِمٍ يَقْبُلُنِي وَيُصَدِّقُ دَعْوَتِيْ اِلَّا ذُرِّيَةُ الْبَغَايَا ( آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۴۷) کہ تمام حقیقی مسلمان مجھے قبول کریں گے اور میری دعوت کی تصدیق کریں گے سوائے سرکش اور منتمر دلوگوں کے۔مولوی ثناء اللہ صاحب عربی فقرہ کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ : نتیجہ صاف ہے کہ نہ ماننے والوں کی مائیں زانیہ ہیں اور وہ زنا زادے۔“ تعلیمات صفحه ۲۸) الجواب 1 - ذرّية البغایا کے معنے بدکار اور سرکش لوگ ہیں۔اس کا لفظی ترجمہ کرنا یعنی اسے مرتب کی بجائے الگ الگ کر کے منکرین کی ماؤں کو زانیہ قرار دینا غلطی ہے جیسا کہ ابن السبیل ، کے معنے کرنا ، راستے کا بیٹا، اور پھر اس سے استدلال کرنا کہ ہر ابن السبیل‘ اپنے باپ کا نہیں بلکہ راستے کا بیٹا ہے، گویا ولد الزنا ہے، غلط ہے۔یہ زبان کا ایک محاورہ ہے کہ ابن السبیل کے معنی مسافر، ابن الوقت کے معنی مکار، ابن الدینار کے معنی لالچی اور ذریۃ البغایا کے معنے سرکش کے ہیں۔چنانچہ اسی مفہوم کے لحاظ سے حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے مخالفوں کو افعی کے بچو اور اپنے باپ ابلیس سے ہو“ کہا ہے۔پس حقیقت یہ ہے کہ مولوی صاحب نے لفظ ذریۃ البغایا کے از خود یہ معنے کر کے کہ ”نہ ماننے والوں کی مائیں زانیہ ہیں خود گالی دی ہے۔اصل میں بغایا “ کا لفظ بغی مصدر سے بنا ہے جس کے معنے ہیں:۔حاکم وقت بادشاہ وقت ،سردار قبیلہ وغیرہ کی نافرمانی سرکشی۔“ " 66 (اہل حدیث ۲۶ جولائی ۱۹۱۲ صفحہ ۸) لے مولوی ثناء اللہ صاحب کو اپنی کنیت ابوالوفاء پر ہی غور کرنا چاہئے۔کیا وفا ان کے بیٹے کا نام ہے؟ جب نہیں تو اس جگہ لفظی ترجمہ نہیں ہوگا با محاورہ ترجمہ کیا جائے گا۔یادر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے چار بیٹے عطاء الرحمن طاہر ، عطاء الکریم شاہد ، عطاء الرحیم حامد، عطاء المجیب راشد موجود ہیں اس لئے میرا نام ابوالعطاء تو حقیقی ہے مگر مولوی ثناء اللہ صاحب اپنی کنیت ابوالوفاء کو حقیقت پر محمول نہیں کر سکتے تھے۔(مؤلف) (684)