تفہیماتِ ربانیّہ — Page 683
فج الروحاء اس موقع پر ممکن ہے کہ مخالف لوگ وہ حدیث پیش کریں جس کے الفاظ ہیں۔وَ الَّذی نَفْسِنُ بِيَدِهِ لَيُهِلَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَعِ الْرَدُ حَاءِ (مسلم) اور کہیں کہ اس سے ثابت ہے کہ مسیح موعود ضرور حج کرے گا۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو نفخ الروحاء میقات نہیں لیس بميقات (اکمال شرح مسلم جلد ۳ صفحہ ۳۹۸) مسیح اس جگہ سے کس طرح احرام باندھے گا۔کیا وہ نئی شریعت قائم کرے گا؟ دوسرے در حقیقت یہ اس کشف کا ذکر ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی فج الروحاء میں مسیح بن مریم کو تلبیہ کہتے عنا جیسا کہ مسلم شریف کی دوسری حدیث میں ہے کہ وادی الازرق میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسی کو لبیک لبیک کہتے عنا اور وادی ہرنی میں حضرت یونس کو سرخ اونٹنی پر تنبیہ کہتے اور حج کے لئے جاتے دیکھا ( مشکوۃ صفحه ۵۰۸ مسلم کتاب انجی) گویا اسی طرح حضور نے بھی الروحاء میں مسیح کو بیک لبیک کہتے عنا۔یہ زمانہ ماضی کا ایک کشفی واقعہ ہے آنے والے مسیح موعود سے اس حدیث کا کوئی تعلق نہیں۔لیمن میں نونِ تاکید کے ذریعہ اس وقت کے واقعہ کو بیان کیا ہے جیسا کہ آیت وَإِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَيْبَطِلَنَ اور وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا میں ہے۔ہمارے اس بیان کی تصدیق حضرت ابو موسیٰ کی اس حدیث سے بھی ہو جاتی ہے جس میں لکھا ہے:۔قَالَ أَبُو مُوسَى عَنِ النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَبَارَكَ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَرَّ بِالصَّخْرَةِ مِنَ الرَّوْحَاءِ سَبْعُونَ نَبِيًّا حُفَاةً عَلَيْهِمُ الْعَبَاء يُؤْتُونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ - یعنی ابوموسى آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ وادی الروحاء میں سے ستر نبی ننگے پاؤں چادریں اوڑھے گزرے جو کہ بیت اللہ کا قصد ) بہ نیت حج ) رکھتے تھے۔(شرح التعرف صفحہ قلمی) معلوم ہوتا ہے ان میں سے ایک مسیح بن مریم بھی تھے یا ان کو کبھی علیحدہ اُس جگہ سے تلبیہ کہتے سنا ہے اور اس کا حضور نے ذکر فرمایا ہے۔جب اس حدیث کا مسیح موعود علیہ السلام کے حج سے کوئی تعلق ہی نہیں تو اس کے ذریعہ سے حضرت اقدس پر اعتراض کرنا بھی غلطی ہے۔(۱۵) ذريّة البغایا کا جوا عام مولوی صاحبان بھی یہ اعتراض دہراتے رہتے ہیں اور مولوی ثناء اللہ (683