تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 682 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 682

الطَّيبي " ( مظاہر حق شرح مشکوۃ جلد ۴ صفحه ۳۷۳) نوٹ : یہی مضمون بعینہ مندرجہ ذیل کتب میں بھی موجود ہے۔(۱) مجمع النجار جلد ۲ صفحه (۳۲۱) (۲) مشکوۃ مطبع مجتبائی صفحہ ۴۷۶ حاشیه (۳) مرقاة جلد ۵ صفحه ۲۰۹) الغرض جملہ اُمت محمدیہ اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح موعود کے طواف خانہ کعبہ کے جو معنے کئے ہیں اُن کی رُو سے کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوسکتا۔فَانْدَفَعَ الْإِشْكَالُ۔حج کے شرائط مولوی صاحب کے پیش کردہ اعتراض کا اصل جواب دینے کے بعد ہم یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ اس امر کی وضاحت کریں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حج نہ کرنے سے آپ پر کوئی الزام نہیں آتا کیونکہ حج از روئے شریعت اسلامی ان فرائض میں سے ہے جو مخصوص شرائط کی موجودگی میں واجب ہوتے ہیں۔جیسے زکوۃ ہے۔یہ دونوں ( حج وزکوٰۃ) اسلام کے ارکانِ خمسہ میں سے ہیں مگر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بھر کبھی زکوۃ ادا نہیں فرمائی۔کیونکہ حضور کے پاس کبھی مال سال بھر جمع ہی نہیں رہا تا ز کوۃ فرض ہو۔اسی طرح حج کے لئے بھی شرائط ہیں۔قرآن مجید نے مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا فرمایا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر میں سواری اور زادراہ کا ذکر فرمایا ہے اور بعض بزرگوں نے صحت کو بھی لازمی شرط قرار دیا ہے۔(تفسیر ابوسعود زیر آیت ہذہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر عملاً بتایا ہے کہ امنِ راہ بھی شرط ہے۔ان شرائط کے فقدان کی صورت میں حج فرض نہیں ہوتا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر امن راہ نہ ہونے صحت کی کمزوری کے باعث نیز زادِ راہ نقد جمع نہ ہونے کی وجہ سے حج فرض نہ تھا۔لہذا آپ کا حج نہ کرنا موردِ اعتراض نہیں۔ہاں آپ کی طرف سے تطوعاً حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم کے ذریعہ سے حج کروایا گیا تھا۔ے یہ شرط اہلحدیث کو بھی مسلم ہے۔(دیکھو اخبار اہلحدیث امرتسر ۱۰-۱۷ جون ۱۹۳۱ء صفحہ ۹۔اہل علم اس شرط کو قرآن مجید سے استنباط کرتے ہیں۔ملاحظہ ہو تر مذی ابواب الرضاع جلد ) صفحہ ۱۳۹ - ابو العطاء ) (682)