تفہیماتِ ربانیّہ — Page 62
چه نسبت خاک را با عالم پاک پس ہم اس جگہ صرف ناظرین کی شرافت اور نجابت سے ہی اپیل کرتے ہیں کہ کیا یہ طریقہ تحقیق حق کا ہے؟ اس بیان کو مصنف نے پانچ شقوں میں تقسیم کیا ہے ہم بھی اسی طرز پر جواب لکھتے ہیں : اعتراض حیض کا جواب (الف) مرزا صاحب کا حیض۔مصنف موصوف لکھتے ہیں :- يُرِيدُونَ أَنْ يَّرَ واطَمَتَكَ - اس الہام کی تشریح مرزا صاحب یوں بیان کرتے ہیں کہ بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یاکسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے۔اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔تمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۴۳ و اربعین ۴ صفحه ۲۳ (عشره صفحه ۳۲) کیا کوئی عظمند کہہ سکتا ہے کہ اس عبارت میں یہ دعویٰ موجود ہے کہ مرزا صاحب کو حیض آتا ہے؟ اس میں تو اس کی نفی کی گئی ہے اور اس کی تردید کرتے ہوئے انعامات متواتر “ کا وعدہ دیا گیا ہے مگر معترض اس کو اپنے دعوے کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں۔العجب ثم العجب۔بایں ہمہ اس کے کئی جواب ہیں۔اوّل اس الہام میں یریدون “ کا لفظ ہے یعنی دشمن تیرا حیض دیکھنا چاہتے ہیں۔یہ نہیں کہا کہ فی الواقع تجھ میں حیض موجود بھی ہے۔کیا دشمنوں کے ارادہ کرنے سے وہ بات ویسے ہی ہو جایا کرتی ہے؟ اگر یہ درست ہے تو بتلائیے کیا آیت يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ ( تو به رکوع ۱۱) اور يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كلام الله (الفتح رکوع ۱۰) سے یہ بھی ثابت ہو سکتا ہے کہ اللہ کا نور بجھ گیا اور اس کا کلام مبدل ہو گیا ؟ جس طرح ان آیات سے یہ استدلال غلط ہے ویسا ہی الہام مندرجہ بالا سے اثبات حیض کا دعوی باطل ہے۔دراصل اس فقرہ میں نادان مخالفوں پر ایک طنز کیا گیا ہے کہ یہ اتنے احمق ہیں کہ جب ہم نے تجھے مریم قرار دیا تو ان لوگوں نے کہا کہ آؤ پھر ہم حیض دیکھیں حالانکہ تیرا مریم ہونا صرف صفاتی مشابہت کی بناء پر ایک استعارہ تھا۔افسوس ہے کہ یہ لوگ اپنی نا مجھی کے 62