تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 63 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 63

باعث پھر اسی بات پر معترض نظر آتے ہیں۔سچ ہے لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا۔دوھ ملہم یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود حیض کے معنی کی تشریح فرما دی ہے چنانچہ اربعین جلد ۴ صفحہ ۱۹ کے حاشیہ پر لکھا ہے :- یہ لوگ خون حیض تجھ میں دیکھنا چاہتے ہیں یعنی ناپاکی اور پلیدی اور خباثت کی تلاش میں ہیں اور خدا چاہتا ہے کہ اپنی متواتر نعمتیں جو تیرے پر ہیں دکھلاوے۔“ اس عبارت میں جلی قلم فقرہ میں حیض کا مفہوم’ ناپاکی ، پلیدی ، اور خباشت“ قرار دیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے بالمقابل متواتر نعمتیں دکھلانے کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔پس اگر مہم کی تفسیر کو دیکھا جائے تب بھی کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوتا اور مصنف عشرہ خود لکھ چکا ہے کہ ” صحیح تفسیر پیشگوئی کی مرزا صاحب ہی کر سکتے تھے کیونکہ بقول ان کے ملہم سے بڑھ کر الہام کے معنی کوئی نہیں سمجھ سکتا۔لہذا ان تحریروں کے خلاف جو کچھ بھی لکھا جائیگا لغو اور بے ہودہ خیال کیا جائے گا۔“ ( تحقیق لاثانی صفحه ۱۸۵) ناظرین کرام ! فرمائیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات اور حضور کی تحریر کردہ تشریح وتفسیر کے خلاف خود پٹیالوی معترض نے لکھا ہے یا نہیں؟ اور اسی پر اپنے اعتراضات کی بنیاد رکھی ہے یا نہیں؟ یقیناً ایسا ہے تو وہ اعتراض بقول اس کے کیوں لغو اور بیہودہ خیال نہ کئے جائیں؟ سوم - اولیاء امت کا اسلوب خاص تصوف کی جان ہے مگر ابتداء سے ظاہر پرست طبقہ ان پر معترض ہوتا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کامل درجہ کے صوفی اور کامل منتظم تھے۔آپ کے کلام میں ہر دو رنگ نمایاں طور پر نظر آتے ہیں لیکن خشک ملاں“ منكر لہ یہ وہی حوالہ ہے جسے مصنف نے بار بار صفحہ ۲۳ سے منسوب کیا ہے۔حالانکہ صفحہ ۲۳ پر یہ بالکل ذکر نہیں۔مصنف نے مخالفین کی مختلف کتابوں سے نقل تو کر دیا مگر نقل را عقل باید پر توجہ نہ فرمائی۔منہ سے حضرت کے الفاظ میں صرف الہام کا لفظ ہے جیسا کہ انت منی بمنزلة ولدی وغیرہ ہیں۔پیشگوئیوں والے الہامات کی تفسیر کا کلی طور پر قبل از وقت مثلبم پر کھل جانا ضروری نہیں۔حضرت تحریر فرماتے ہیں :- ہمیں اس بات سے انکار نہیں ہے کہ پیش از وقت کسی پیشگوئی کی پوری حقیقت نہیں کھلتی اور ممکن ہے کہ انسانی تشریح میں غلطی بھی ہو جائے اسلئے کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی کسی پیش گوئی کے معنے کرنے میں کبھی غلطی نہ کھائی ہو۔“ ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ضمیمه صفحه ۸۶) 63