تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 61 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 61

(۲) حضور ا پنی کتاب کشتی نوح میں جماعت کو تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں :- وہ یقین کریں کہ اُن کا ایک قادر اور قیوم خالق الکل خدا ہے جو اپنی صفات میں ازلی ابدی اور غیر متغیر ہے۔نہ وہ کسی کا بیٹا، نہ کوئی اس کا بیٹا ، وہ دُکھ اُٹھانے اور صلیب پر چڑھنے اور مرنے سے پاک ہے۔“ (صفحہ ۱۰) پھر فرمایا :- کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں۔“ (صفحہ ۱۹) پس معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود کا مذہب اور جماعت احمدیہ کا اعتقاد صرف یہی ہے کہ اللہ تعالی بیٹوں سے پاک ہے، اس کا کوئی بیٹا نہیں۔حضرت مرزا صاحب صرف اللہ کے محبوب اور برگزیدہ بندے ہیں وبس۔لہذا مصنف عشرہ کاملہ کا یہ لکھنا کہ : مرزا صاحب نے خود کو خدا کا بیٹا ٹھہرایا کھلا مجھوٹ ، صریح بہتان ، اور محض افتراء ہے ے افسوس کہ عالمان ایں دہر کردند شعار خود وغارا خدا کی بیوی ہونے کا دعوی مصنف نے اس موقعہ پر نہایت دریدہ دہنی سے کام لیا ہے اور شرافت و تہذیب کو یکسر جواب دے دیا ہے۔ملاحظہ فرمائیے لکھا ہے :- یہ تمہارا اچھا عشق بازخدا ہے۔کبھی مرزا صاحب کو اولاد کہے اور بھی بیوی بنا کر اس سے ہم صحبت ہو۔کہیں تو شرم چاہئے۔“ (صفحہ ۳۳) ہم ان الفاظ کا جواب نہیں دے سکتے اور اگر دیں تو کس کو ؟ ہم سب انبیاء کو ماننے والے، قرآن مجید کی اطاعت کرنے والے، تمام آئمہ اور بزرگانِ سلف کی طہارت کو مانے والے ہیں۔وہ ہمارے بزرگ ہیں ہم ان کو برا نہیں کہہ سکتے ع فَإِذَا رَمَيْتُ يُصِيبُنِي سَهُمِنُ باقی رہے منشی محمد یعقوب اور اُن کے ہمنوا ، سوان کی ہستی ہی کیا ہے ہے 61