تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 636 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 636

میں آپ کو لکھنا ہی پڑا۔اور حالات کے پیش نظر اس تحریر میں آپ نے بزدلی کو دھونے کیلئے لفظی طور پر غیر معمولی جرات کا اظہار کیا۔اور لکھا کہ :- ”مرزائیو! سچے ہو تو آؤ۔اور اپنے گرو کو ساتھ لاؤ۔وہی میدانِ عیدگاہ امرتسر تیار ہے، جہاں تم پہلے صوفی عبد الحق غزنوی سے مباہلہ کر کے آسمانی ذلت اٹھا چکے ہو۔اور انہیں ہمارے سامنے لاؤ جس نے ہمیں رسالہ انجام آتھم میں مباہلہ کے لئے دعوت دی ہوئی ہے۔کیونکہ جب تک پیغمبر جی سے فیصلہ نہ ہو۔سب اُمت کے لئے کافی نہیں ہوسکتا۔“ اہلحدیث ۲۹ مارچ ۱۹۰۷ء صفحه ۱۰) مولوی صاحب کی یہ تعلی مرنے والے مریض کا آخری افاقہ تھا جسے اُردو زبان میں سمبھالا لینا کہتے ہیں۔مگر کچھ بھی ہو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس تحدی کو منظور کیا۔اور پورے طور پر منظور کیا۔چنانچہ ابھی مولوی صاحب یہ سطور شائع کر کے مطمئن بھی نہ ہوئے تھے کہ چُھٹ جناب ایڈیٹر صاحب اخبار بدر قادیان نے حضرت مسیح موعود کے حکم سے اعلان کر دیا کہ : اس مضمون کے جواب میں میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو بشارت دیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب نے ان کے اس چیلنج کو منظور کر لیا۔( بدر ۱۴ اپریل ۱۹۰۷) یہ اعلان کیا تھا امرتسری منکر کے نخلِ اُمید کیلئے بجلی تھی۔اور اُس کے طلسم ساحری کے لئے عصائے موسیٰ تھا۔اسے پڑھ کر اُس کا خون خشک ہو گیا۔سب چالا کی اور چرب زبانی بھول گئی۔اور جھٹ لکھ دیا کہ :- میں نے آپ کو مباہلہ کے لئے نہیں بلایا۔میں نے تو قسم کھانے پر آمادگی کی وو ہے۔مگر آپ اس کو مباہلہ کہتے ہیں۔حالانکہ مباہلہ اس کو کہتے ہیں جو فریقین مقابلہ پر قسمیں کھا ئیں۔میں نے حلف اٹھانا کہا ہے مباہلہ نہیں کہا۔قسم اور ہے مباہلہ اور ہے۔“ اہلحدیث ۱۹ / ا پریل ۱۹۰۷ء صفحه ۴) اس جگہ میں اُن تمام لوگوں سے جو اپنے دلوں میں خشیت اللہ رکھتے ہیں، اپیل کرتا ہوں کہ وہ بغور ملاحظہ فرمائیں کہ خُدا کے مقبول بندوں کا کیا طریق ہوتا ہے۔اور وہ اپنی کامیابی اور حتمی لے یہ بشارت تھی یا مولوی صاحب کے لئے پیغام اجل تھا؟ اس کا اندازہ مولوی صاحب کے جواب سے کرلیں۔(ابوالعطاء ) (636)