تفہیماتِ ربانیّہ — Page 635
ناظرین کرام ! آپ منتظر ہوں گے کہ مولوی ثناء اللہ کی طرف سے اس طریق پر پوری آمادگی کا اعلان ہو جائے گا۔اور مولوی صاحب میدان مقابلہ میں نکل آئیں گے، لیکن نہیں۔دیکھئے مولوی ثناء اللہ صاحب اعجاز احمدی صفحہ ۳۶ کی تحدی کو قتل کرنے کے بعد کیا جواب دیتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ :- چونکہ یہ خاکسار نہ واقع میں، نہ آپ کی طرح نبی یا رسول، یا ابن اللہ، یا الہامی ہے۔اسلئے ایسے مقابلہ کی جرات نہیں کر سکتا۔چونکہ آپ کی غرض یہ ہے کہ اگر مخاطب پہلے مر گیا تو چاندی کھری ہے۔اور اگر خود بدولت تشریف لے گئے خس کم جہاں پاک تو بعد مرنے کے کس نے قبر پر آنا ہے۔اس لئے آپ ایسی ویسی بیہودہ شرطیں (یعنی مباہلہ۔ناقل ) باندھتے ہیں۔مگر میں افسوس کرتا ہوں کہ مجھے ان باتوں پر جرات نہیں۔اور یہ عدم جرأت میرے لئے عزت ہے، (جیسا کہ یہودو نصاری کے لئے گریز میں اُن کے لئے عزت تھی۔ابو العطاء ) ذلّت نہیں۔“ (رساله الہامات مرزا صفحه ۱۱۶ طبع ششم) گویا امرتسری مولوی صاحب۔شیر خدا حضرت میرزاغلام احمد قادیانی کی ایک ہی دہاڑ سے لومڑی کی طرح چھپ گئے اور جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ہم مولوی صاحب کے طرز بیان کے ثقاہت سے گرے ہوئے ہونے پر حیران نہیں۔کیونکہ یہ اُن کی طبیعت ثانیہ بن چکا ہے۔رتی جل گئی پر بل نہ گیا۔ہم صرف قارئین کرام کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اہل حق کے سامنے اہل باطل کس طرح منہ کی کھاتے اور چاروں شانے چت گر جاتے ہیں۔جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کی اس گھلی گھلی شکست سے اہل حدیثوں میں صف ماتم بچھ گئی۔اور اپنوں بیگانوں نے سلسلہ احمدیہ کے اول نمبر مخالف کی اس بے نظیر بزدلی پر طعن و تشنیع کی۔مولوی صاحب آخر انسان تھے۔اس سلسلہ ذمائم وشتا ئیم سے متاثر ہوئے۔اور اپنی فطری حیلہ بازی سے قسم اٹھانے کا نقاب اوڑھ کر سادہ لوحوں کو تسلی دینی چاہی لیکن بے سود۔جوں جوں زمانہ گزرتا گیا۔یہ نقاب بھی عریانی سے بدلتا گیا۔اور دُنیا نے مولوی صاحب کی اصل شکل دیکھ کر سخت نفرت کا اظہار کیا۔آخر لا چار اور مجبور ہو کر مرتا کیا نہ کرتا ؟!ء (635)