تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 637 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 637

فتح پر کس طرح کامل بصیرت اور یقین نام رکھتے ہیں؟ معزز قارئین! آپ نے مولوی ثناء اللہ کے اضطراب اور بے بسی کو بھی دیکھا، اس کے گریز اور بزدلی کو بھی دیکھا۔آئیے اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ بھی پڑھئے۔حضور تحریر فرماتے ہیں :- میں ہر ایک پہلو سے منکر پر اتمام حجت چاہتا ہوں۔یا الہی تو جو ہمارے کاروبار کو دیکھ رہا ہے، اور ہمارے دلوں پر تیری نظر ہے، اور تیری عمیق نگاہوں سے ہمارے اسرار پوشیدہ نہیں۔تو ہم میں اور مخالفوں میں فیصلہ کر دے۔اور وہ جو تیری نظر میں صادق ہے اُس کو ضائع مت کر کہ صادق کے ضائع ہو جانے سے ایک جہان ضائع ہوگا۔اے میرے قادر خدا تو نزدیک آجا۔اور اپنی عدالت کی کرسی پر بیٹھ۔اور یہ روز کے جھگڑے قطع کر۔ہماری زبانیں لوگوں کے سامنے ہیں۔اور ہمارے دلوں کی حقیقت تیرے آگے منکشف ہے۔میں کیونکر کہوں اور کیونکر میرا دل قبول کرے کہ تو صادق کو ذلت کے ساتھ قبر میں اُتار دے گا۔اوباشانہ زندگی والے کیونکر فتح پائیں گے۔تیری ذات کی مجھے قسم ہے کہ تو ہر گز ایسا نہیں کرے گا۔“ ( اعجاز احمدی صفحہ ۱۶-۱۷) بھائیو! خدارا غور کرو کہ کیا یقین کا یہ بحر مواج اور استقلال کی یہ زبردست ہر کسی کا ذب کے قلب میں پید اہو سکتی ہے؟ کیا مفتری کا کلام اور اس کا ایک ایک لفظ نصرت الہی کے یقین کا چھلکتا ہوا پیالہ ہو ا کرتا ہے؟ حاشا و کلا ! ہرگز نہیں!! پھر کیا اب بھی تمہارے لئے خدا کے برگزیدہ مسیح کے کلام میں شک کی گنجائش ہے؟ مولوی ثناء اللہ صاحب کے چیلنج مباہلہ (اہلحدیث ۲۹ / مارچ ۱۹۰۷ء) کے جواب میں ایڈیٹر صاحب اخبار بدر نے اس کی منظوری کا اعلان فرماتے ہوئے دوصورتوں میں سے ایک صورت کا بایں الفاظ ذکر کیا تھا۔کہ : باوجود اس قدر شوخیوں اور دلآزاریوں کے جو ثناء اللہ سے ہمیشہ ظہور میں آتی ہیں۔حضرت اقدس نے پھر بھی اُس پر رحم کر کے فرمایا ہے کہ یہ مباہلہ چند روز کے بعد ہو۔جبکہ ہماری کتاب حقیقۃ الوحی چھپ کر شائع ہو جائے۔“ (بدر ۳ را پر میل عناء) (637)