تفہیماتِ ربانیّہ — Page 56
الجواب - (الف) پیش کردہ تین الہامات میں سے آخری یعنی اسمع ولدی سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی الہام نہیں اور نہ ہی البشری حضرت مسیح موعود کی کوئی کتاب ہے۔اس کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ حضرت مسیح موعود کا ایک الہام أَسْمَعُ وَارَى میں سنتا اور دیکھتا ہوں ) با بو منظور الہی صاحب نے اپنے مرتبہ مجموعہ میں درج کیا جو کتابت کی غلطی سے بجائے وَاری کے "وَلَدِی" بن گیا۔چنانچہ دیکھئے بابو صاحب موصوف نے اپنی کتاب ”البشری میں اس الہام کو بحوالہ مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحہ ۲۳ درج کیا ہے اور مکتوبات احمدیہ میں صحیح الہام اَسْمَعُ وَاَرَی درج ہے۔اور پھر خود با بو منظور الہی صاحب نے اس تصحیف کی تصحیح شائع کرادی ہے۔لکھا ہے :- البشری جلد اوّل صفحہ ۴۹ سطر ۱۰ میں حضرت مسیح موعود کا ایک الہام غلطی سے أَسْمَعُ وَأَرَىٰ کی بجاۓ اِسْمَعْ وَلَدِی چھپا ہے۔اور ترجمہ بھی اے میرے بیٹے ئن ، غلط کیا گیا ہے۔افسوس کہ آج تک کسی دوست نے اس کی طرف توجہ نہ دلائی۔میں اپنے ایک مہربان برادر کا بہت مشکور ہوں کہ انہوں نے اس کی طرف مجھے توجہ دلائی۔حوالہ مندرجہ البشرکی اصل کے ساتھ مقابلہ کرنے سے معلوم ہوا کہ اصل الہام اَسْمَعُ وَأَرَى ہے جن احباب کے پاس البشریٰ ہو وہ اس غلطی کی اصلاح کرلیں۔(ملاحظہ ہو اخبار الفضل جلد 9 صفحہ ۹۶) ۹ گویا یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ اگر کوئی کا تب آیت قرآنی کو غلط لکھ دے تو نادان اُسی سے استدلال کرنا شروع کر دے۔ناظرین ذرا غور فرمائیں کہ کیا اس صورت میں مؤلّف مذکور کو محقق کہا جاسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔(ب) حقیقۃ الوحی اور اربعین کے حوالہ سے جو الہام درج کئے گئے ہیں وہ درست ہیں۔مگر جس طرح تیسرے الہام میں لفظی مغالطہ سے کام لیا گیا تھا بعینہ اسی طرح ان اوّل الذکر الہاموں میں تحریف معنوی سے کام لیا گیا ہے۔اگر ہم اس بات کو نظر انداز بھی کر دیں کہ ہم نے ان الہامات کی کیا تشریح کی ہے تب بھی یہ ہر گز محل اعتراض نہیں۔کیونکہ اگر ان میں حضرت مرزا صاحب کو بمنزلہ وَلَدُ اللهِ قرار دیا گیا ہے تو قرآن مجید کی آیت فَاذْكُرُوا الله 56