تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 55 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 55

چونکہ میرے نزدیک نبی اسی کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام می بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو اسلئے خدا نے میرا نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت کے۔“ (عشرہ کاملہ صفحہ ۳۶ بحوالہ تجلیات الہیہ ) غرض مقام نبوت غیر تشریعی آپؐ کے دعاوی کا آخری مقام ہے۔ہاں معاند جن کے حق میں سعدی مرحوم فرما گئے ہیں بیر بچشم عداوت بزرگتر کیسے است ہنر گل است سعدی و در چشم دشمناں خار است اہلِ دُنیا کو متنفر کرنے کے لئے مختلف اتہام لگاتے ہیں۔مثلاً کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے خدا کا بیٹا ، خدا کی بیوی، خود خدا، اور خدا کا باپ ہونے کا دعویٰ کیا جیسا کہ مصنف عشرہ کاملہ نے لکھا ہے۔معَاذَ اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْخُرَافَاتِ۔ہم لوگ جو حضرت مرزا صاحب کو ماننے والے ، ان کے کلام کو سمجھنے والے اور ان کی باتوں پر عمل کرنے والے ہیں، خدائے واحد کو حاضر و ناظر جان کر اعلان کرتے ہیں کہ یہ محض افتراء جھوٹ اور بہتان ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کبھی کوئی ایسا دعوی نہیں کیا اور نہ جماعت احمدیہ نے کبھی ایسا عقیدہ رکھا۔وہ شخص مفتری اور مفسد ہے جو ایسی بات حضور اقدس کی طرف منسوب کرتا ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسا کہ آریہ کہا کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بت پرستی سے نکال کر رسول پرستی سکھائی اور اپنے الہامات مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمُ وغيره میں الوہیت کا دعویٰ کیا ہے۔( نعوذ باللہ ) سچ ہے تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ۔خدا کا بیٹا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام ه چوں کا فراز ستم پرستند مسیح را * غیوری خدا بسرش کرد همسرم مؤلّف عشرہ کا ملہ لکھتے ہیں :- الہامات ذیل سے مرزا صاحب نے خود کو خدا کا بیٹا ٹھہرایا۔انتَ مِنَى بِمَنْزِلَةِ وَلَدِئ (حقیقة الوحی صفحه ۸۶) أَنْتَ مِنّى بِمَنْزِلَةِ أَوْلَادِى اربعین جلد ۴ صفحه ۲۳) اسْمَعْ وَلَدِئ (البشرىی جلد ۱ صفحه ۴۹ صفحه ۳۲ عشره 55