تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 57 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 57

ماکو كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ (البقرہ رکوع ۱۵) میں سب مومنوں کو بمنزلہ اولاد الہی قرار دیا گیا ہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ بیٹوں سے اور خود باپ ہونے سے پاک ہے۔فَمَا هُوَ جَوَائِكُمْ فَهُوَ جَوَابُنَا۔(ج) ان الہامات میں حضرت مرزا صاحب کو ” بمنزلة ولدی“ قرار دیا گیا ہے جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ عیسائیوں نے جس کو میرا بیٹا قرار دیا ہے تو اس کے مرتبہ پر ہے، حالانکہ تو بیٹا نہیں۔پس نصاری ابنیت مسیح کے عقیدہ میں غلطی پر ہیں۔گویا ولدہی کی اضافت اعتقاد الناس کی بناء پر ہے نہ کہ حقیقت کی بناء پر۔اور یہ اسلوب بیان کلام قرآن مجید میں بکثرت وارد ہوا ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ أَيْنَ شُرَكَاوِي قَالُوا اذَلكَ مَا مِنَّا مِن شَهِيدة ( حم السجدہ رکوع ۶) کہ قیامت کے روز میں کہوں گا میرے شریک کہاں ہیں۔وہ لوگ کہیں گے کہ ہم آپ کے سامنے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی اس کا دعویدار یا گواہ نہیں۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں بچوں کو شتر گاو منی یعنی ” میرے شریک قرار دیتا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ شریکوں سے پاک ہے۔مراد یہی ہے کہ وہ معبودانِ باطلہ جن کو تم لوگ میرا شریک قرار دیا کرتے تھے۔اسی طرح بِمَنْزِلَةٍ وَلَدِی کے معنے ہوں گے کہ تو اُس میرے بیٹے کے ہم مرتبہ ہے جسے لوگ ، مثل نصاری ، میرا بیٹا گردانتے ہیں۔اندرین صورت یہ الہام توحید الہی کے قیام اور الوہیت مسیح کے ابطال کے لئے نهایت زبردست ہتھیار ہے۔گویا عیسائی جس کو خدا اور معبود قرار دیتے ہیں اس کی شان کا انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام میں شامل ہے۔اس سے اسلام کی شوکت کا اظہار ہوگا۔خود سید نا حضرت مسیح موعود حقیقة الوحی صفحه ۸۶ کے حاشیہ پر تحریر فرماتے ہیں :۔” خدا تعالی بیٹوں سے پاک ہے اور یہ کلمہ ( أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ وَلَدِى ) بطور استعارہ کے ہے۔چونکہ اس زمانہ میں ایسے ایسے الفاظ سے نادان عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کو خدا ٹھہرا رکھا ہے اس لئے مصلحت الہی نے یہ چاہا کہ اس سے بڑھ کر الفاظ اس عاجز کے لئے استعمال کرے تا عیسائیوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ سمجھیں کہ وہ الفاظ جن سے مسیح کو خدا بناتے ہیں اس اُمت میں بھی ایک ہے جس کی نسبت اس سے بڑھ کر ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔“ 57