تفہیماتِ ربانیّہ — Page 530
کرنے کے لئے اگر مصلح دوران ضرورت کے وقت بعض الفاظ استعمال کرے تو کیا وہ قابل اعتراض ہو گا ؟ ہر گز نہیں۔سخت الفاظ کے مخاطب صرف علماء سوء ہیں مندرجہ بالا تصریحات کے بعد اگر چه مز ید توضیح کی ضرورت نہیں لیکن ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں سے چند اقتباس پیش کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔حضرت تحریر فرماتے ہیں :- (۱) ایسے لوگ جو مولوی کہلاتے ہیں، انصار دین کے دشمن اور یہودیوں کے قدموں پر چل رہے ہیں۔مگر ہمارا یہ قول کلی نہیں ہے۔راستباز علماء اس سے باہر ہیں صرف خائن مولویوں کی نسبت یہ لکھا گیا ہے۔ہر ایک مسلمان کو دعا کرنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ جلد اسلام کو ان خائن مولویوں کے وجود سے رہائی بخشے۔کیونکہ اسلام پر کا کا اب نازک وقت ہے اور یہ نادان دوست اسلام پر ٹھٹھا اور جنسی کرانا چاہتے ہیں۔“ (اشتہار ۷ اردسمبر ۱۸۹۲ ء بعنوان قیامت کی نشانی صفحہ ملحقہ آئینہ کمالات اسلام ) (۲) نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ هَتُكِ الْعُلَمَاءِ الصَّالِحِينَ وَقَدْحِ الْشُرَفَاءِ " الْمُهَتِّبِينَ سَوَاءَ كَانُوْا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَوِ الْمَسِيحِيَّينَ أَوِ الْأَرِيَةِ “ ترجمہ - ہم صالح علماء کی ہتک اور شرفاء کی توہین سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں خواہ ایسے لوگ مسلمان ہوں یا عیسائی یا آریہ“ (لحبۃ النور صفحہ ۶۷) (۳) علماء کے ذکر پر فرمایا :- لَيْسَ كَلَا مُنَا هَذَا فِي أَخْيَارِهِمْ بَلْ فِي أَشْرَارِهِمْ “ (البدى صفحه ۶۸) یعنی ہمارا یہ کلام شریر علماء کے متعلق ہے نیک علماء متقی ہیں۔ان عبارتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان سخت الفاظ کے مخاطب علماء سوء ہیں ویس۔معترض پٹیالوی کی گالیوں پر ایک نظر اس ضمن میں معترض نے بلا حوالہ بعض (530)