تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 529 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 529

یہ ہیں کہ آسمان کے نیچے جس قدر مخلوق ہے وہ اس سے بدتر ہیں۔گویا ہر چیز سے بدتر ہیں۔اس حدیث کو مد نظر رکھ کر بآسانی سمجھ آسکتا ہے کہ ان علماء سوء کے حق میں مسیح وقت نے جو کچھ فرمایا ہے وہ در حقیقت رسول کریم کے ارشاد کی نرم سی تفسیر ہے۔معترض صاحب کے نزدیک اگر یہ اظہار واقعہ گالیاں ہیں تو پھر وہ اس حدیث کا کیا نام رکھیں گے ؟ تقباں علماء کی حالت زبوں کے متعلق ہمارا ہی یہ عقیدہ نہیں بلکہ مخالف موافق سب کا یہی یقین ہے۔چند حوالجات گزر چکے ہیں بعض یہ ہیں :- (۱) اگر نمونہ یہود خواہی کہ بینی علماء سوء که طالب دنیا باشند ( الفوز الكبير صفحه ۱۰) (۲) افسوس ہے اُن مولویوں پر جن کو ہم ہادی، رہبر، ورثۃ الانبیاء سمجھتے ہیں ان میں یہ نفسانیت، یہ شیطنت بھری ہوئی ہے تو پھر شیطان کو کس لئے بڑا بھلا کہنا چاہئے۔“ (الحدیث ۷ ارنومبر ۱۹۱۱م) (۳) " آج کل کے تھرڈ کلاس کے مولوی جو ذره ذره بات پر عدم جواز اقتداء کا فتویٰ دے دیا کرتے ہیں سوان کی بابت بہت عرصہ ہؤا فیصلہ ہو چکا ہے هَل أَفْسَدَ النَّاسَ إِلَّا الْمُلُوكَ وَعُلَمَاءُ سُوْءٍ وَرُهْبَانُهَا ( اہلحدیث کے جون ۱۹۱۲) (۴) اس زمانہ میں اکثر واعظین اہلحدیث مقلدین میں جا کر اپنی طمع ولالچ کی غرض سے حسب منشاء عوام الناس وعظ گوئی کرتے ہیں۔“ (۵) (الحدیث ۲۴ مئی ۱۹۱۲ ء ) ”مولوی اب طالب دنیا ئے جیفہ ہو گئے * وارث علم پیمبر کا پتہ لگتا نہیں“ (اہلحدیث ۳ رمئی ۱۹۱۲ء ) (4) علماء اِس اُمت کے بدتر ان کے ہیں جو نیچے آسمان کے ہیں۔انہیں سے فتنے نکلتے ہیں انہیں کے اندر پھر کر جاتے ہیں۔“ (اقتراب الساعۃ صفحہ ۱۲) ایسے بیانات صاف بتا رہے ہیں کہ علماء کی حالت یقیناً متذکرہ صدر حدیث کی مصداق ہو چکی ہے۔صاحب انصاف غور کریں کہ ایسے علماء کے پوست کندہ حالات کو ظاہر (529)