تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 531 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 531

الفاظ نقل کر کے ان کا شکوہ کیا ہے۔اس اعتراض کا عام جواب ہم لکھ چکے ہیں۔معترض کا یہ کہنا کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری کو زبانی گالیاں دیں یہ سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے۔محمد صدیق اور محمد ابراہیم امرتسری ثناء اللہ کے ” چار آنہ والے گواہ ہیں۔جن کی بات بجوئے نیرزد کی حیثیت رکھتی ہے۔مولوی عبد الحق غزنوی کی بدزبانی جب حد سے بڑھ گی تھی تب حضرت نے بطور امر واقعہ اسے مکذب علماء کے سردار کے طور پر رئیس الد جالین لکھا ہے۔معترض نے سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق ” کانا دجال کے حوالہ سے جو نظم درج کی ہے اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تحریر کا حوالہ نہیں دیا۔” کا نا دجال“ تو ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کی تصنیف ہے جس میں علاوہ ازیں اور بھی غلط بیانیاں ہیں۔یوں سعد اللہ کے متعلق حضرت کی کتب میں جو بعض سخت الفاظ نظر آتے ہیں ان کے ذکر پر حضرت نے خود تحریر فرمایا ہے کہ :۔سعد اللہ کی نسبت میری کتابوں میں بعض سخت لفظ پاؤ گے اور تعجب کرو گے کہ اس قدر سختی اس کی نسبت کیوں اختیار کی گئی۔مگر یہ تعجب اسوقت فی الفور دُور ہو جاویگا جب اس کی گندی نظم اور نثر کو دیکھو گے۔وہ بد قسمت اس قدر گندہ زبانی اور دشنام دہی میں بڑھ گیا تھا کہ مجھے ہرگز امید نہیں کہ ابو جہل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ بد زبانی کی ہو۔بلکہ میں یقینا کہتا ہوں کہ جس قدر خدا کے نبی دنیا میں آئے ہیں ان سب کے مقابل پر کوئی ایسا گندہ زبان دشمن ثابت نہیں ہوتا جیسا کہ سعد اللہ تھا۔الخ ( تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۰) سعد اللہ مذکور کی بدزبانیوں سے ہر شریف نالاں تھا۔ان دنوں ڈاکٹر علامہ اقبال سکاچ مشن سکول سیالکوٹ میں پڑھتے تھے۔آپ نے اسی زمانہ میں سعد اللہ کو مخاطب کر کے ایک برجستہ نظم کہی تھی جو اس طرح شروع ہوتی ہے ا اس کی گندی نظم کے نمونہ کے لئے مولوی ثناء اللہ کا رسالہ الہامات مرزا صفحہ ۳۰ ملاحظہ ہو۔(مؤلف) (531)