تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 45 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 45

اپنے لئے اُس کا نام پا کر اُس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔" (ایک غلطی کا ازالہ ) کفر قرار دینے کے حصہ کا جواب دیکر ہم اصل مبحث کی طرف رجوع کرتے ہیں۔منشی محمد یعقوب صاحب آیت ولو تقول علینا کی شمشیر براں سے خوف زدہ ہو کر حضرت اقدس کا دعوی نبوت ۱۹۰۱ء میں بتلاتے ہیں۔حالانکہ غیر احمدی علماء قریباً تین سو علماء ۱۹۰ بو سے بہت قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اسی بناء پر فتوی کفر لگا چکے تھے کہ آپ نے دعوائی نبوت کیا ہے۔اگر منشی صاحب کا بیان راست ہے تو ان کے علماء کی دروغ گوئی ثابت ہے۔لیکن اگر منشی صاحب کے نزدیک علماء کا بیان درست تھا تو ان کی اپنی غلط بیانی ظاہر ہے۔بہر صورت مخالفین احمدیت کا بطلان واضح ہے۔ان لوگوں کے اپنے بیانات میں اس قدر تخالف اور تہافت کیوں ہے؟ صرف عداوت اور تعصب کی وجہ سے۔مؤلّف عشرہ نے حضرت مسیح موعود کی ۲۳ سالہ مہلت کے انکار سے فتوای کفر کے دستخط کنندہ تمام مولویوں کو جھوٹا اور درونگو قرار دیدیا ہے مگر وہ مجبور ہے کیونکہ بصورت دیگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ناظرین کرام ! آپ جانتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوا کرتے۔نیز آپ نے سنا ہوگا که دروغ گورا حافظہ نباشد ممکن ہے آپ کو آج تک اس کی تصدیق کا موقعہ نہ ملا ہو لیجے منشی محمد یعقوب صاحب کے قلم سے اس کا ملاحظہ کر لیجئے۔آپ نے ابھی پڑھا ہے کہ منشی صاحب نے حضرت مسیح موعود کے دعوئی کا سن ۱۹۰۱ ء بتا کر ۲۳ سال کے زمانہ سے انکار کیا ہے اب اس کے ساتھ یہ الفاظ بھی پڑھیئے خود لکھتے ہیں :۔وو مرزا صاحب کا نشانات دکھانے کا زمانہ کب سے شروع ہوا؟ مرزا صاحب چودھویں صدی ہجری کے سرے پر بعمر ۴۰ سال اپنا مبعوث ہونا تسلیم کرتے ہیں لہذا ان کی بعثت کا زمانہ ۱۸۸۳ ء ہوتا ہے۔اس لئے یہ دس لاکھ نشانات جو ۱۹۰۳ بر تک ظاہر ہوئے مرزا صاحب کی ۲۰ سالہ زمانہ رسالت کی کمائی ہے۔“ تحقیق لاثانی یا عشرہ کاملہ حصہ دوم صفحه (۱۲۳) 45