تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 46 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 46

گویا ۱۹۰۳ به تک حضرت مسیح موعود کا ۲۰ سالہ زمانہ رسالت گزر چکا تھا۔۱۹۰۸ ؛ میں حضور کا وصال ہوا۔معترض پٹیالوی کے اس حساب سے بھی آپ کا زمانہ رسالت ۲۵ سال بنتا ہے۔منشی صاحب نے مطالبہ کیا تھا کہ ۲۳ سال نبی کہاں رہے؟ اب دیکھئے اسی کے قول سے ۲۵ سال زمانہ رسالت ثابت ہو گیا۔وو کیا اس سات سال اور پچیس سال کے کھلے اختلاف میں تطبیق ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔یہ تو درونگو را حافظہ نباشد کا پورانظارہ ہے۔منشی صاحب ! اختلاف بیانی اس کو کہتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے خوب فرمایا ہے انٹی مهين من اراد اهانتك - خلاصه بیان حضرات ! ولو تقول علینا کے فیصلہ کن معیار پر معترض نے تین اعتراض کئے تھے ہم نے تفصیل واران سب کا جواب دے دیا ہے۔ہم ثابت کر چکے ہیں کہ کسی مفتری علی اللہ کو ٹیس برس مہلت نہیں ملی اور نہ مل سکتی ہے۔پھر ہم نے واضح کر دیا ہے کہ بعض نبیوں کا کم عرصہ مہلت پانا اس معیار میں قادح نہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کنبوت اور تئیس سالہ مہلت کا ثبوت بھی دیدیا گیا ہے بلکہ خود مکذب کے الفاظ میں اس کا اعتراف دکھا دیا گیا ہے۔آپ خدا را غور فرما دیں کہ کیا اب بھی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخالف حق بجانب ہیں۔خدا کا قانون مفتری کی جلد ہلاکت کا اعلان کرتا ہے، اُمتِ مسلمہ اس قانون کو عقائد میں داخل کرتی ہے، واقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں۔لیکن جب اس قانون سے حضرت مرزا صاحب کی صداقت ثابت ہو جاتی ہے تو تاریکی کے فرزند انکار کر دیتے ہیں اور اُس دن سے غافل ہو جاتے ہیں کہ جب دانت پیسنا اور رونا ہوگا۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ دنیا اس مقدس کو دجال اور کذاب قرار دیتی ہے لیکن خدا اپنے وعدہ کے مطابق جو وہ تورات اور قرآن مجید میں کر چکا تھا اس کو ہلاک اور برباد نہیں کرتا بلکہ اسے بڑھاتا ہے اور خوب سرسبز کرتا ہے۔پھر طرفہ یہ کہ وہ دنیا کے فتووں اور اس کی ایذارسانی کو دیکھ کر بارگاہ الہی میں خود عاجزانہ عرض کرتا ہے اے قدیر و خالقِ ارض و سما اے رحیم و مهربان و رہنما ایکه میداری تو بر دلها نظر ایکه از تو نیست چیزی مستتر گر تو می بینی مرا پر فسق و شر گر تو دید استی که هستم بد گهر 46