تفہیماتِ ربانیّہ — Page 44
ہمارے مخاطب کی یہ آخری امید تھی لیکن اس کی حقیقت بھی تار عنکبوت سے زیادہ نہیں۔اگر چه آیت ولو تقول علینا کے الفاظ میں مخصوص طور پر نبوت کا دعوی مذکور نہیں بلکہ مطلق دعولی وحی و الہام مراد ہے لیکن بغرض اختصار ہم یہی تسلیم کر لیتے ہیں کہ نبوت کا دعویٰ چاہئے۔اب یہ سوال باقی ہے کہ حضرت نے کب دعوئی فرمایا ؟ معترض کہتا ہے کہ 190 ء میں دعویٰ کیا کیونکہ اس سے قبل تو آپ دعوی نبوت کو کفر قرار دیا کرتے تھے۔میں کہتا ہوں کہ آپ نے دعوی نبوت کو بے شک کفر قرار دیا ہے لیکن نہ صرف ان اب تک بلکہ اج تک مگر وہ نبوت نبوت تشریعی ہے۔وہ نبوت جو قرآن مجید کو منسوخ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو ختم بتائے بے شک کفر ہے۔اسی نبوت کو آپ نے تمام کتب میں (۱۹۰۱ بر سے قبل بھی اور بعد بھی ) کفر لکھا ہے۔چنانچہ آپ اپنے آخری مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں :- میں ہمیشہ اپنی تالیفات کے ذریعہ سے لوگوں کو اطلاع دیتا رہا ہوں اور اب بھی ظاہر کرتا ہوں کہ یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعوی کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعتِ اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں یہ الزام صحیح نہیں ہے بلکہ ایسا دعویٰ نبوت کا میرے نزدیک کفر ہے۔اور نہ آج سے بلکہ اپنی ہر ایک کتاب میں ہمیشہ میں یہی لکھتا آیا ہوں کہ اس قسم کی نبوت کا مجھے کوئی دعوئی نہیں اور یہ سراسر میرے پر تہمت ہے۔(اخبار عام لاہور مؤرخہ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء) پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا صاحب شریعت نبی ہونے سے انکار اور اس کو کفر قرار دینا ابتداء سے انتہا تک ثابت ہے۔ہاں غیر تشریعی نبوت کا آپ کو دعوی تھا اور اس دعوے سے حضور نے کبھی انکار نہیں فرمایا۔۱۹۰۱ء سے پہلے نہ ۱۹۰۱ء کے بعد۔چنانچہ آپ نے لکھا ہے :- جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور 44