تفہیماتِ ربانیّہ — Page 43
والے بھی پاس ہو نگے۔بعینہ اسی طرح ۲۳ سال مہلت عدم کذب کے اظہار کے لئے انتہائی پیمانہ اور بلند ترین معیار ہے۔پس حضرت یحی یا کسی اور نبی کا کم عمر پا نا در آنحالیکہ انکی سچائی پر اور دلائل قائم ہیں ان کی نبوت میں حارج نہیں اور نہ اس سے ۲۳ سالہ معیار پر زد پڑسکتی ہے۔ہاں اس بیان سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ اس آیت کا ملکی ہونا ہمارے استدلال کی تردید نہیں بلکہ گونہ تائید ہے۔کیونکہ ہم ۲۳ سال مہلت کو انتہائی عرصہ مانتے ہیں جس کے بعد کسی مدعی الہام کا انکار در حقیقت ذات باری کا انکار ہے جیسا کہ ابن القیم نے نصرانی سے کہا تھا :- لَا يَتِمُّ لَكُمْ ذَالِكَ إِلَّا بِجُحُودِهِ وَانْكَارِ وُجُودِه تَعَالَی (زاد المعاد جلد اصفحه ۵۰۰) 66 کہ اس دلیل کو تم اس صورت میں رڈ کر سکتے ہو جبکہ اللہ تعالیٰ کے ہی وجود کا انکار کر دو“ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس جگہ صورت حال کو ذہن نشین کرنے کے لئے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کی عبارت بھی پیش کر دیں۔آپ فقرہ ” کا ذب مدعی نبوت کی ترقی نہیں ہوا کرتی بلکہ وہ جان سے مارا جاتا ہے۔“ پر حاشیہ میں لکھتے ہیں :- اس سے یہ نہ کوئی سمجھے کہ جو نبی قتل ہو اوہ جھوٹا ہے بلکہ ان میں عموم مطلق ہے۔یعنی یہ ایسا مطلب ہے جیسا کوئی کہے کہ جو شخص زہر کھاتا ہے مرجاتا ہے اس کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ ہر مرنے والے نے زہر بھی کھائی ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ جو کوئی زہر کھائیگا وہ ضرور مریگا۔اور اگر اس کے سوا بھی کوئی مرے تو ہو سکتا ہے۔گو اسنے زہر نہ کھائی ہو۔یہی تمثیل ہے۔دعویٰ نیات کا ذبہ مثل زہر کے ہے جو کوئی زہر کھائی گا ہلاک ہو گا۔اگر اس کے سوا بھی کوئی ہلاک ہو تو ممکن ہے۔ہاں یہ نہ ہوگا کہ زہر کھانے والا بیچ رہے۔(مقدمہ تفسیر ثنائی صفحہ ۷ حاشیہ) پس اگر بعض صادق نبیوں کا زمانہ ۲۳ سال سے کم ہے تو ہو ا کرے۔جب وہ صادق ہیں تو ان کی صداقت مسلّم ہے لیکن ان کے زمانہ کی کمی ۲۳ سالہ معیار کو باطل نہیں کر رہی۔وهو المراد - حضرت مسیح موعود کا دعوی اور ۲۳ سال مہلت پٹیالوی معترض نے اس ضمن میں آخری عذر یہ کیا تھا کہ :- اگر مرزا صاحب کا استدلال مان بھی لیا جائے تو انہوں نے 1901 ء سے پہلے دعوی نبوت کو کفر قرار دیا ہوا تھا۔سنہ مذکور میں دعویٰ کیا اور سات برس بعد ۱۹۰۸ء میں مرگئے۔۲۳ سال نبی کہاں رہے۔“ (عشره صفحه ۲۱) 43