تفہیماتِ ربانیّہ — Page 477
عذاب طاعون ، زلازل ، قحط، وبائیں ، انفلوئنزا، هفت سالہ جنگ اور دیگر تغیرات آپ کے دعوے کے بعد پورے زور سے نمودار ہوئے تا انجیل وقرآن مجید کی شہادت کے مطابق آپ کی راستبازی پر گواہ ہوں۔سورج چاند کے گرہن کو انجیلی حوالہ میں مسیح کی آمد ثانی کی دلیل بتایا گیا ہے جو حضرت مسیح موعود کے دعوے پر ۱۳۱۱ھ میں ظاہر ہو گیا۔اس کی تفصیل فصل دوازدہم میں ملاحظہ ہو۔اس جگہ اشار تأیہ بھی بتادینا ضروری ہے کہ حضرت مسیح کی اس آمد سے ان کی جسمانی آمد مراد نہیں ہوسکتی۔کیونکہ خود حضرت مسیح یہود کے آسمانی نوشتوں کے الفاظ ایلیا نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا ( ملا کی ۴/۵) کی تاویل میں فرما چکے ہیں کہ : ایلیا جو آنے والا تھا یہی (حضرت کی ) ہے۔جس کے کان سُننے کے ہوں وہ سُن لے۔“ (متی ۱۱/۱۲) لہذا اب آسمان پر جا کر خود دوبارہ اسی جسم سے آجائیں تو ان کا سابقہ فیصلہ غلط اور یہود کا دعوی بر حق ہوگا ( نعوذ باللہ ) پس آنے والا آپکا مگر افسوس ان پر جو تا حال ٹکٹکی باندھے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔کیا کبھی کوئی آسمان سے اُترا ہے جو اب اُترے گا سر کو پیٹو آسماں سے اب کوئی آتا نہیں عمر دنیا سے بھی اب تو آ گیا ہفتم ہزار (۱۳) قوله ”مرزا صاحب کے اشعار ہیں ہست او خیر الرسل خیر الانام ہر نبوت را برو شد اختتام ختم شد بر نفس پاکش ہر کمال لا جرم شد ختم پیغمبرے (عشره صفحه ۱۱۵) اقول - معترض کا مطلب ان اشعار کے پیش کرنے سے یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے نبوت کو بند مانا ہے۔اگرچہ یہ درست ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ (477)