تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 476 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 476

دوم۔اناجیل کی اپنی گواہی موجود ہے کہ وہ جھوٹے مسیح حضرت مسیح سے بعد قریب ہی ہو چکے ہیں۔اس کے لئے عبارت ذیل ملاحظہ فرماویں۔و تم نے سنا ہے کہ مخالف مسیح آنے والا ہے۔اس کے موافق اب بھی بہت سے مخالف مسیح پیدا ہو گئے ہیں۔اس سے ہم جانتے ہیں کہ یہ اخیر وقت ہے۔وہ نکلے تو ہم ہی میں سے مگر ہم میں سے تھے نہیں۔“ ( یوحنا ۱۸) ” بہت سے جھوٹے نبی دنیا میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔“ (1 یوحنا ۲/۸) سوم معترض کے ذکر کردہ حوالہ میں جو مرقس ۳/۲۲ اور لوقا ۲۶-۱۷/۳۱ وغیرہ سے منقول ہے صاف لکھا ہے کہ بچے مسیح نے بھی آنا ہے اور اس کے آنے کی جو علامات لکھی تھیں وہ یعنی عذاب ،لڑائیاں ،سورج اور چاند کا گرہن ،سب پوری ہو کر حضرت مرزا صاحب کی صداقت پر دلیل بن گئی ہیں۔پس یہ حوالہ بھی ہمارے مخالف نہیں۔ہاں اس جگہ اتنا یا درکھنا چاہئے کہ انجیل نویسوں کی سادہ لوحی سے یہ لکھا گیا ہے کہ عذاب پہلے آئیں گے اور مسیح بعد میں آئے گا۔مگر یہ خیال از روئے عقل و نقل مردود ہے۔عقلاً پہلے اتمام حجت یا اجرائے فرمان ہونا چاہئے اور پھر مستحقین عذاب کو ہلاک کرنا چاہئے۔قرآن مجید فرماتا ہے وَمَا كُنا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا - کہ ہم عذاب نہیں دیا کرتے جب تک رسول مبعوث نہ کرلیں۔“ ( بنی اسرائیل رکوع ۲) نیز فرما یا ذَلِكَ اَنْ لَّمْ يَكُن رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غُفِلُونَ (انعام رکوع ۱۶) کہ ہم بستیوں کو ایسی حالت میں ہلاک کرنے والے نہیں کہ وہ غافل ہوں۔“ گویا عذاب کے آنے سے پہلے نبی اور رسول کا آنا ضروری ہے اور یہ بچے نبی کی علامت ہوتی ہے۔ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں یہ علامت واضح طور پر پائی جاتی ہے۔آپ کا دعویٰ عالمگیر ہے اور عالمگیرانہ شرقا {(476)