تفہیماتِ ربانیّہ — Page 478
السلام نے تشریعی نبوت کو بند مانا ہے جیسا کہ متعد دحوالجات درج ہو چکے ہیں۔لیکن اس جگہ ان اشعار میں جہاں نبوت کے اختتام کا ذکر ہے وہاں پر ذاتِ نبوی پر ہر کمال کے ختم ہو جانے کا بھی ذکر ہے۔شجاعت ،عفت، حلم، بردباری، طہارت ، راستبازی ، ایفاء، رحم و کرم ، غرض ہر کمال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم مانا گیا ہے۔جو معنے ان کمالات کے ختم ہونے کے ہیں وہی نبوت کے اختتام کے ہیں۔یعنے ہر کمال بتمامہ حضور کی ذات میں پایا جاتا تھا اور ہر وصف اور خلق کا انتہائی درجہ آپ نے اس حد تک حاصل فرمایا ہے کہ اس سے زیادتی متصور نہیں ہوسکتی۔یہ معنے ہر گز نہیں کہ آئندہ کے لئے ہر صفت کو اور ہر کمال کو آپ نے بند کر دیا ہے۔اب نہ علم ہے ، نہ رحم ہے ، نہ شجاعت ہے۔یادر ہے کہ یہی حال نبوت کے ختم ہونے کا ہے۔نبوت کے مدارج میں سے سب سے بلند تر مرتبہ حضور نے حاصل کیا جس سے آگے بڑھنے کا کوئی امکان ہی نہیں۔اس کے متعلق ہم تفصیلا تو ختم نبوت کے ماتحت فصل دوازدہم میں بحث کریں گے انشاء اللہ۔اس جگہ صرف ایک حوالہ درج کر دیتے ہیں جس سے ہر نبوت را بر وشد اختتام“ کا مفہوم واضح ہو جائے۔اہلحدیث کا نامہ نگار لکھتا ہے :- شرک و بدعت یہاں کے لوگوں پر ختم ہے۔گویا اس منحوس نام نے یہیں ( چھاؤنی مرار ) مسلمانوں میں نشو نما پائی ہے۔“ اہلحدیث ۲۷ ستمبر ۱۹۱۲ ء صفحه ۳) (۱۲) قوله " حضرت امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کا فتویٰ یہ ہے کہ ” جو مسلمان کسی مدعی نبوت سے معجزہ طلب کرے وہ بھی کافر ہے۔کیونکہ اس کے مطالبہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے میں شک ہے۔دیکھو خیرات الحسان مطبوعه مصر صفحه ۴۵۰ (عشره صفحه ۱۰۶) (478)