تفہیماتِ ربانیّہ — Page 449
تم کو دین و دنیا میں ذلیل و رسوا کر رہی ہے۔کیا اب بھی یہی کہتے جاؤ گے کہ حضرت مرزا صاحب نے لفظ پاک تثلیث میں عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث کی تصدیق کی ہے؟ ان لوگوں کے اس قدر گھلے جھوٹ اور افتراء کو دیکھ کر خیال ہوتا ہے کہ شاید یہ لوگ یوم الجزاء کو بالکل بھول چکے ہیں اور خدا کا خوف ان کے نزدیک محض ایک وہم ہے۔آہ وہ مقدس انسان جو برطانیہ کی ملکہ معظمہ کو دعوتِ اسلام دیتے ہوئے لکھتا ہے :۔”اس نے میرے پر ظاہر کیا کہ وہ اکیلا اور غیر متغیر اور قادر اور غیر محدودخدا ہے جس کی مانند اور کوئی نہیں۔“ ( تحفہ قیصریہ صفحہ ۱۷ طبع سوم ) اُس پر یہ اتہام باندھا گیا کہ وہ نصاری کے مشرکانہ عقیدہ تثلیث کا مؤید تھا۔ہے اللہ اکبر یہ خیال ان کا کس قدر ہے نابکار (۲) قوله ”مرزا صاحب نے ایسے گندے عقائد ( تثلیث ) کی پاک اور ناپاک دو قسمیں بنادی ہیں تو مرزائیوں میں پاک جھوٹ ، پاک شرک، پاک بجوئے وغیرہ کا بھی ضرور رواج ہونا چاہئے۔(عشرہ صفحہ ۱۰۱) اقول تثلیث کے معنے تین بیان کرنا یا تین قرار دینے کے ہیں جیسا کہ اوپر عرض ہو چکا گویا یہ عدد ہے، اس کے ساتھ جیسا معدود لگاؤ ویسا ہی یہ عدد بن جائے گا۔یہی حال ایک دو اور باقی اعداد کا ہے۔خدا ایک ہے اور توحید پاک ہے۔مگر ایک بت یا منحصر ایک سور کو ہم پاک نہیں مان سکتے ہیں۔اسی طرح تین خداؤں کا عقیدہ نا پاک ہے۔لیکن تین رسول یا تین وتر پاک ہیں۔اہلِ انطاکیہ کی طرف اللہ تعالیٰ نے پہلے دو رسول بھیجے۔پھر فرما یا فَعَزَّ زُنَا بِثَالِثٍ (یس رکوع ۲) کہ تیسرے رسول کو بھیج کر ان کو زیادہ معزز کر دیا۔معلوم ہوا کہ عدد کی پاکیزگی و نا پا کی معدود کی طہارت و عدم طہارت پرمنت ہے۔اب معترض کی امثلہ اور لفظ ” پاک تثلیث میں فرق نمایاں ہو گیا۔تثلیث عدد ہے اور عدد کے بیان کرنے کا لفظ لیکن جھوٹ ، شرک ، جوا ایسے نہیں ہیں بلکہ فی ذاتہ برے ہیں۔اعداد میں سے کوئی عدد اپنی ذات میں نہ بُرا ہے نہ پاک۔اندریں صورت ”مرزائیوں کو ایسا (449)