تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 450 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 450

مشورہ دینے والے کو اپنی دماغی اصلاح کی طرف متوجہ ہونا چاہئے ویس۔(۳) قوله " قرآن شریف فرماتا ہے لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيء۔اللہ تعالیٰ کی مانند کوئی چیز نہیں ہے۔مگر مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ اس وجود اعظم کے بے شمار ہاتھ ، بے شمار پیر ، ہیں۔عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس کی تاریں بھی ہیں۔( توضیح المرام صفحه ۷۵ عشره صفحه ۱۰۱) اقول۔آئیے ! ہم پہلے حضرت مسیح موعود کے الفاظ دیکھیں۔حضرت نے تحریر فرمایا ہے :- اس بیان مذکورہ بالا کی تصویر دکھلانے کے لئے تخیلی طور پر ہم فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ پیر اور ہر ایک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج۔اور لا انتہاء طول اور عرض رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس وجودِ اعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں اور کشش کا کام دے رہی ہیں۔یہ وہی اعضاء ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں عالم نام ہے۔“ ( توضیح مرام صفحه ۵۵) ط اب غور فرمائے کیا یہ تمثیل جو تخیل اور فرض کے طور پر ہے قابل اعتراض تھی؟ حالانکہ یہ بھی بتادیا گیا ہے کہ ان اعضاء سے مراد حقیقی اعضاء نہیں بلکہ ان مختلف عالموں اور جہانوں کو بمنزلہ اعضاء قرار دیا گیا ہے جو مختلف کرہ جات وغیرہ میں موجود ہیں۔یہ تمثیل تو ویسی ہی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا ہے اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مبركة الآية ( نور رکوع ۵) کہ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔اس کے نور کی مثال ایک طاقچہ کی ہے جس میں چراغ ہو۔اور چراغ پھر شیشہ میں ہو۔جو چمکیلے ستارہ کی مانند ہے۔اللہ " کیا پہلے نادانوں نے اس آیت قرآنی پر بھی اعتراض کر کے اپنی جہالت کا ثبوت نہ دیا تھا؟ پھر کیا ضرور تھا کہ معترض پٹیالوی بھی اسی گروہ میں شامل ہو جاتا ؟ بے شک کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی مانند نہیں۔یہی حضرت مرزا صاحب کا مذہب (450)