تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 448 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 448

کو اپنی اصطلاح میں تین خداؤں کے لئے مخصوص کر دیا۔چونکہ خدا ایک ہی ہے اسلئے نصاریٰ کی اصطلاح غلط ہے۔ہاں لکل ان يصطلح کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بندہ کی ابتدائی محبت ، اللہ تعالیٰ کی محبت ، پھر ان کے مجموعہ سے ایک تیسری اور خاص محبت، ان تینوں کے مجموعہ کو پاک تثلیث قراد یا تو اس میں کیا حرج لازم آیا۔بلکہ اگر غور کیا جاتا تو یہ نصاری کے خیال باطل پر ایک کاری ضرب ہے۔اتنا تو سوچو کہ کیا ہم محض اسلئے ایک لفظ کو چھوڑ دیں اور اس کے لغوی مفہوم کو مد نظر رکھ کر ایک اصطلاح نہ قائم کریں۔کہ نصاری اس لفظ کو ایک غلط مفہوم میں استعمال کر رہے ہیں۔اگر یہ درست ہے تو مقدس باپ“ اور ”پاک بیٹا کا لفظ بھی ترک کردیں کیونکہ عیسائی تثلیث کے ماتحت ہی خدا کو مقدس باپ اور مسیحی کو مقام اہنیت کے لحاظ سے پاک بیٹا کہتے ہیں۔کیا ہم یہ لفظ چھوڑ دیں گے اور اس کے عام مفہوم میں استعمال نہ کریں گے؟ پھر میں کہتا ہوں کہ قرآن مجید نے صرف تین خداؤں ہی کی تردید نہیں کی بلکہ فرقہ ثانویہ کا بھی رد کیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا دو ہیں۔فرما یالَا تَتَّخِذُوا الْهَيْنِ اثْنَيْنِ (النحل رکوع ۷) تم دو خد مت بناؤ۔کیا فرقہ ثانویہ کے خیال کے مطابق ہم آئندہ ” پاک جوڑا کا لفظ بھی ترک کر دیں؟ پھر کیا قرآن مجید سے ازواج مطہر ، جس کے معنی ہیں ”پاک جوڑے اس کو بھی خارج کر دیا جائے گا ؟ غرض پٹیالوی صاحب نے یہ اعتراض کر کے در حقیقت کمال ناواقفی کا ثبوت دیا ہے۔ہم ایسے معترضین کو بتانا چاہتے ہیں کہ لفظی نزاع کی بجائے حقیقت پر غور کیا کریں۔مولوی ثناء اللہ امرتسری بعض علماء کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے :۔مختصر مگر صاف لفظوں میں عرض کرتا ہوں کہ ہمارے ملک میں ایک نئی تثلیث قائم ہوئی ہے جو عیسائیوں کی تثلیث سے زیادہ مضبوط ہے۔وہ کسی طرح نہیں چاہتے کہ کسی قومی کام میں مل کر کام کریں۔اخبار اہلحدیث ۵ را پریل ۱۹۱۲ ، صفحہ ۱۱ کالم ۳) کیا اس نئی تثلیث سے مراد نے تین خداؤں کا تقرر ہے جو کسی قومی کام میں مل کر کام نہیں کرنا چاہتے ؟ خدا را ذرا انصاف سے کام لو۔حضرت مرزا صاحب کی عداوت (448)