تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 447 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 447

کہنا بے جا نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت سے بھری ہوئی روح اس انسانی روح کو جو با رادہ الہی اب محبت سے بھر گئی ہے ایک نیا تولد بخشتی ہے۔اسی وجہ سے اس محبت سے بھری ہوئی روح کو خدا تعالیٰ کی روح سے جو نافخ المحبت ہے استعارہ کے طور پر اہنیت کا علاقہ ہوتا ہے۔اور چونکہ روح القدس ان دونوں کے ملنے سے انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے اسلئے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان دونوں کے لئے بطور ابن ہے اور یہی پاک تثلیث ہے جو اس درجہ محبت کے لئے ضروری ہے جس کو نا پاک طبیعتوں نے مشرکانہ طور پر سمجھ لیا ہے اور ذرہ امکان کو جو ہالکتۃ الذات باطلة الحقیقت ہے حضرت اعلیٰ واجب الوجود کے ساتھ برابر ٹھیرایا ہے۔“ ( توضیح مرام صفحہ ۲۱-۲۲) ناظرین! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوری عبارت آپ کے سامنے ہے۔کیا اس میں حضرت مسیح موعود نے نصاریٰ کے عقیدہ تثلیث الوہیت کی تصدیق کی ہے یا تردید؟ حضور نے اُن لوگوں کو نا پاک طبیعتوں کے خطاب سے مخاطب کیا ہے جو انسان کو درجہ الوہیت سے متصف قرار دیں اور مشرکانہ خیال رکھیں۔مگر کس قدر حیرت کا مقام ہے کہ معترض پٹیالوی اسی کو حضرت کا شرک بتا رہا ہے گویا ع ”وز دے کہ بکف چراغ دارد والی بات ہے۔اس اقتباس کے نقل کرنے کے بعد اگرچہ ضرورت نہیں ہے تا ہم مزید توضیح کے لئے لکھتا ہوں کہ غور کرو جس چیز کو قرآن مجید نے لعنت اور کفر کا موجب قرار دیا ہے وہ تمہارے لفظوں میں ہی یہ ہے کہ خدا تین میں سے ایک ہے“ کا اعتقاد رکھا جائے۔تین خدا مساوی مانے جائیں۔کیا اُوپر کی عبارت سے کوئی موٹی عقل کا انسان بھی یہ استدلال کر سکتا ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مرزا صاحب تین خداؤں کے قائل ہیں؟ حَاشَا وَكَلَّا۔حضرت نے اپنی تحریر میں تین محبتوں کا ذکر کر کے اس کا نام پاک تثلیث قرار دیا ہے۔اس لفظ کو موجب اعتراض گرداننا اور بھی جہالت کا مظاہرہ ہے۔کیونکہ لفظ تثلیث کے لغوی معنے صرف اِس قدر ہیں کہ تین بیان کرنا۔عیسائیوں نے اس لفظ {(447)