تفہیماتِ ربانیّہ — Page 428
جلد فوت ہو جائے گا اور چھوٹی عمر میں ہی خدا کی طرف واپس جائے گا بھی پورا ہونا ضرور تھا۔چنانچہ بخار ٹوٹنے اور تندرست ہو جانے کے قریب دو ہفتہ بعد صاحبزادہ موصوف پر مرض کا نا گہانی حملہ ہوا اور و ہ ۱۶ ستمبر کو اپنے مولی سے جاملے۔گویا قبولیت دعا کا الہام بھی پورا ہو گیا اور اِنّى اَسْقُطُ مِنَ اللهِ وأصيبة “ بھی صادق ثابت ہو گیا۔با انصاف ناظرین! بتائیے کیا یہ صورتِ حالات خشیت الہی رکھنے والے کے لئے آسمانی کلام کی سچائی کا زبردست ثبوت نہیں ؟ کیا یہ موقع اعتراض کرنے کا تھایا خدا کے اولو العزم پیغمبر سیدنا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کی راستبازی پر گواہی دینے کا ؟ اے سچائی کے مخالفو! تم کب آنکھیں کھولو گے اور اس ہیرے کو شناخت کرو گے؟ سلام اسم (۳) تین سو تیرہ صحابہ مسیح موعود کے لئے دُعا معترض بیٹیالوی نے لکھا ہے :۔در ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۲۱ میں لکھتے ہیں کہ خدا اس مہدی کی تصدیق کرے گا اور دُور دُور سے اُس کے دوست جمع کریگا جن کا شمار اہل بدر کے شمار کے برابر ہوگا یعنی تین سو تیرہ ہوں گے۔اور ان کے نام بقید مسکن و خصلت چھپی ہوئی کتاب میں درج ہونگے۔اب ظاہر ہے کہ کسی شخص کو پہلے اس سے یہ اتفاق نہیں ہوا کہ وہ مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کرے اور اس کے پاس چھپی ہوئی کتاب ہوجس میں اس کے دوستوں کے نام ہوں۔لیکن میں پہلے اس سے بھی آئینہ کمالات اسلام میں تین سو نام درج کر چکا ہوں اور اب دوبارہ اتمام حجت کے لئے تین سو تیرہ نام ذیل میں درج کرتا ہوں تا کہ ہر ایک منصف سمجھ لے کہ یہ پیشگوئی بھی میرے ہی حق میں پوری ہوئی ہے اور بموجب منشاء حدیث کے یہ بیان کر دینا پہلے سے ضروری ہے کہ یہ تمام اصحاب خصلت صدق و صفا رکھتے ہیں اور حسب مراتب جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے بعض بعض سے محبت اور انقطاع الی اللہ اور سرگرمی دین میں سبقت لے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو اپنی رضا کی راہوں میں ثابت قدم کرے۔“ آخری دعا کے لئے دیکھنا یہ ہے کہ قبول ہوئی یا نہیں۔جن لوگوں کے لئے یہ دعا تھی اور جن کے لئے غلط - صفحہ ۲۱ نہیں بلکہ ۴۱ ہے۔(مؤلف) (428)