تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 427 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 427

" جگر کا ٹکڑا مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک خو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر کہا کہ آئی ہے نیند مجھ کو یہی تھا آخر کا قول لیکن کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اُسے بلایا ملانے والا ہے سب سے پیارا اسی پر اے دل تو جاں فدا کر ، تو نشر : " میں جو غلام احمد نام خدا کا مسیح موعود ہوں مبارک احمد جس کا اوپر ذکر ہے میرا لڑکا تھا۔وہ بتاریخ کے رشعبان ۳۲۵ ھ مطابق ۱۲ رستمبر ۱۹۰۷ ء بروز دوشنبه بوقت نماز صبح وفات پا کر الہامی پیشگوئی کے موافق اپنے خدا کو جاملا۔کیونکہ خدا نے میری زبان پر اس کی نسبت فرمایا تھا کہ وہ خدا کے ہاتھ سے دنیا میں آیا ہے اور چھوٹی عمر میں ہی خدا کی طرف واپس جائے گا۔‘ ( در ثمین صفحہ ۷۹ طبع پنجم ) الجواب - معترض پٹیالوی کا اعتراض اور درثمین کی یہ عبارت ملانے سے اصلیت گھل جاتی ہے۔ہم ” نو دن کا بخار ٹوٹ گیا والے الہام پر کسی گزشتہ فصل میں بحث کر چکے ہیں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔اب صرف قبولیت دعا کا سوال تھا اور وہ بھی ان دو تحریروں پر یکجائی نظر " کرنے سے خود بخود حل ہو جاتا ہے۔اس اجمال کی تفصیل یوں ہے کہ صاحبزادہ مبارک احمد کے متعلق الہاماً بتلایا گیا تھا کہ یہ جلد فوت ہو جائے گا۔اسلئے اس کا بچپن میں فوت ہو جانا بھی الہی نوشتہ تھا۔اور پھر اس کے دلگد از مرض اور متواتر بخار کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا فرمائی اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی منظور فرماتے ہوئے کہا ” قبول ہو گئی۔نو دن کا بخار ٹوٹ گیا۔یہ الہام جیسا کہ معترض کے اعتراض میں مسطور ہے ۲۳ /اگست ۱۹۰۷ ء کا ہے اور پھر یہ بھی وہاں ہی درج ہے کہ " صاحبزادہ مبارک احمد حسب وعدہ الہی دسویں یوم راضی اور تندرست ہو گیا۔(عشرہ صفحہ (۹۳) گویا قبولیت دعا پر جو الہام ” نو دن کا بخار ٹوٹ گیا“ ہوا تھا حرف بحرف پورا ہو گیا۔قبولیت دعا کا سوال حل ہو گیا۔اب وہ پہلا الہام کہ الهام اني اسقط من الله و اصیبہ کیلئے دیکھو تریاق القلوب صفحہ ۴۱ و البشر کی جلد ۲ صفحہ ۵۵ (ابوالعطاء) (427)